صحابہ آپس میں بڑے خوبصورت مذاق کیا کرتے تھے یہاں چند ایک واقعات بیان کرتی ہوں ۔ صاحب علم افراد سے تصحیح کی درخواست ہے !
روایت ہے کہ ایک بار حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت علی ۔۔۔ (ر) ساتھ ساتھ کہیں جارہے تھے ۔ حضرت علی بیچ میں تھے اور دائیں بائیں حضرت عمر اور حضرت ابوبکر تھے ۔ ان دونوں صحابہ کرام کے قد اونچے تھے جبکہ حضرت علی کا قد نسبتاً نیچا تھا ۔ غالباً حضرت عمر یہ حالت دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا " علی تم ہمارے درمیان ایسے ہو جیسے " لنا " میں "ن" ہوتا ہے "۔
حضرت علی نے مسکرا کر برجستہ جواب دیا کہ " میں ہٹ جاؤں تو " لا" رہ جائے گا ۔ "
" لا " کا مطلب عربی میں "نہیں" یا "کچھ نہیں" ہے !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسی طرح ایک بار حضرت علی (ر) وضو فرما رہے تھے ۔ حضرت عمر نے ان کے سر سے ٹوپی اتار لی اور ایک اونچی سی جگہ لٹکا دی ۔ حضرت علی وضو کرنے کے بعد گئے اور ٹوپی تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن ہاتھ نہ پہنچا ۔ مسکرائے اور انتظار کرنے لگے ۔
جب حضرت عمر (ر) وضو فرمانے لگے تو آپ نے انکے سر سے ٹوپی اتار لی ۔ وہیں کسی درخت کا ایک بھاری تنا پڑا تھا ۔ آپ نے وہ تنا اٹھا کر اسکے نیچے ٹوپی رکھ دی ۔ حضرت عمر نے وضو فرمایا اور جاکر اس تنے کے نیچے سے ٹوپی نکالنے کوشش کی ۔ کافی زور لگانے پر بھی بات نہ بنی ۔ تو حضرت علی سے فرمایا ۔ " ٹھیک ہے بھائی میری ٹوپی نکال دو میں تمھاری ٹوپی اتارتا ہوں "
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور ایک مشہور واقعہ ہے کہ جب کئی صحابہ حضور (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے کھجوریں تناول فرما رہے تھے ۔ حضور (صلى الله عليه وسلم) نے ایک کھجور کھانے کے بعد اسکی گھٹلی حضرت علی کے سامنے پھینک دی ۔
صحابہ (ر) تو ہر معاملے میں حضور (صلى الله عليه وسلم) کی نقل فرمایا کرتے تھے ۔ بس پھر کیا تھا ہر صحابی نے یہی کرنا شروع کیا ۔ تھوڑی ہی دیر بعد حضرت علی کے سامنے گھٹلیوں کا انبار لگ گیا ۔
جب کھجوریں ختم ہوئیں تو کسی صحابی نے مزاحاً حضرت علی سے فرمایا " علی لگتا ہے تم کو زیادہ ہی بھوک لگی تھی "
حضرت علی نے اپنے سامنے گھٹلیوں کا انبار دیکھا تو معاملہ سمجھ گئے ۔ مسکرا کر فرمایا " میری نسبت شائد آپ لوگوں کو زیادہ بھوک لگی تھی کیونکہ میں تو گھٹلیاں چھوڑ گیا آپ تو شائد گھٹلیوں سمیت کھا گئے !!
ایک تبصرہ شائع کریں