اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

کشمیری مجاہد کی للکار اور عزم

نظم
(کشمیری مجاہد کی للکار اور عزم )
میں کوہ گراں بن کر
کھڑا رہوں گا
ڈٹا رہوں گا
میری غیرت ابھی مری نہیں
آتش چنار ابھی بجھی نہیں
جتنے
لاشے اٹھائے ہیں میں نے
پیارے گنوائے ہیں میں نے
ان سب کا حساب لینا ہے
تجھے ہر صورت دینا ہے
اب
رات تمھارے مقدر میں ہو گی
روشنی میرے گھر گھر میں ہو گی
جتنے تو نے
بم گرائے انسانوں کی آبادی پر
گہرے گھاو لگائے روح آزادی پر
ظلم ڈھائے اس وادی پر
برق بن کر تجھ پر
کڑکوں گا،گرجوں گا
کوندوں گا،گروں گا
اجل بن کر جھپٹوں گا
قہر کا بادل بن کر برسوں گا
تو نے جتنے
گھر برباد کیے
استبداد کیے
چھینے ماوں کے لخت جگر
کیے گھروں سے بے گھر
اجاڑے سہاگ
لگائی جہاں جہاں آگ
گن گن کر بدلا لوں گا
چن چن کر ماروں گا
تمہیں بھاگنے نہیں دوں گا
آسانی سے جینے نہیں دوں گا
تیرے مقدر میں
رسوائی لکھ دوں گا
تباہی لکھ دوں گا
جتنے
کٹے ہوئے سر دیکھے ہیں
پیوست ان میں خنجر دیکھے ہیں
سولیوں پر چڑھے دیکھے ہیں
بلکتے سسکتےبچے دیکھے ہیں
تیغ بے نیام بن کر
تیرے اوپر منڈلاوں گا
سروں کی فصل کاٹوں گا
اے وقت کے یزیدو!
عورتوں کو بے ردا کرنے والو!
آوں گا میں بن کر برہنہ شمشیر
کچھ بھی نہ چلنے دوں گا تمہاری تدبیر
ٹوٹے گی غلامی کی زنجیر
اتروں گا تیرے سینے میں مانند تیر
اب
مجھے اندیشہ جاں نہیں
اجل سے پریشاں نہیں
ہو کر سر بکف
بڑھ رہا ہوں تیری طرف
اس وادی میں
جب تک ظلم کا اندھیرا رہے گا
غلامی کا ڈیرا رہے گا
اپنے لہو سے چراغ جلاتا رہوں گا
تجھ سے ٹکراتا رہوں گا
اب تو ہر رن کانپے گا
تیرا ہر فوجی بھاگے گا
گونج ہو گی تکبیروں کی
خیر نہیں اب زنجیروں کی
اپنے رستے کے
ہر سنگ و آہن کو توڑوں گا
ظلمت و وحشت کے منہ موڑوں  گا
کتنے سر کاٹو گے
کتنے لاشے گراو گے
ہر سر میں سر فروشی کی تمنا ہے
جب مرنا ہی ٹھہرا ہے
تو پھر حق ادا کرکے مرنا ہے
تیرے اس دستور کو بدلنا ہے
تجھ سے ہر صورت لڑنا ہے
اب میں
لہروں سے الجھوں گا
بھنوروں سے لڑوں گا
طوفانوں سے ٹکراوں گا
آگے ہی آگے بڑھوں گا
کناروں تک آوں گا
اس وادی کو میں
نکھاروں گا خون جگر سے
سنواروں گا دست ہنر سے
اپنے وجود کی
روشنی سے
ضرب کلیمی سے
زور حیدری سے
رسم شبیری سے
زندگی ہو گی ہر آنگن میں
روشنی ہو گی کاشانہ چمن میں
آزاد ہو گا ہر اک میرے وطن میں
تیرا سینہ چاک کروں گا
تجھے خاک کروں گا
یہ دھرتی تجھ سے پاک کروں گا
مجھے اب یقیں ہے
سیاہ رات زیادہ دیر نہیں ہے
اب راستا نکلے گا
اسی سنگ راہ سے آزادی کا چشمہ پھوٹے گا
تیرے حوصلے ٹوٹیں گے
منہ کے بل گریں گے
غلامی کی گھٹاؤں سے
آزادی کا چاند نکلے گا
سورج چمکے گا
اب تو لاکھ
بجلیاں گرا
طوفان لا
آندھیاں اٹھا
آزادی کے پھول کھلیں گے
چاک گریباں سلیں گے
اس وادی میں اب
اندھیرا نہیں رہے گا
درد کا ڈیرا نہیں رہے گا
بھارتی درندوں کا بسیرا نہیں رہے گا

لیبلز:

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget