نظم
میں غریب شہر ہوں
مجھے کیا حق ہے جینے کا
میری سانسوں کو
میری دھڑکنوں کو
میری دیکھتی آنکھوں کو
میری سماعتوں کو
لرزتے کانپتے ہونٹوں کو
بڑھتے قدموں کو
میرے زندہ رہنے کی
زندگی گزارنے کی
سزا دیجئے
مجھے اٹھا دیجئے
کفن پہنا دیجئے
منوں مٹی تلے دبا دیجئے
ایک تبصرہ شائع کریں