نظم
(یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت )
یاران جہاں کہتے ہیں
کشمیر ہے جنت
تم ہی بتاو !
ایسی ہوتی ہے جنت جہاں
ہر کوئی پابند سلاسل ہو
دندناتا پھرتا قاتل ہو
بلا کا جبر ہو قہر ہو
اپنی ہی جنت سے بے گھر ہو
وحشت ہو درندگی ہو
اپنی ہی جنت میں تشنگی ہو
ناکہ بندیاں ہوں
پابندیاں ہوں
باغات تباہ حال ہوں
خوشیاں پامال ہوں
یہ کیسی جنت ہے
جسے درندوں نے گھیر رکھا ہو
ندیوں میں بہتے خون کے دھارے ہوں
عقوبت خانوں میں چاند تارے ہوں
یہ کیسی جنت ہے
جہاں خار ہی خار ہوں
اور اتنے بے باک ہوں
گلوں کے دامن صد چاک ہوں
سروسمن ،دشت و دمن
گلزار و باغ
ہیں داغ داغ
یہ کیسی جنت ہے
جہاں
شبنم کی جگہ شعلے ہی شعلے ہیں
بہاروں کے تبسم کی جگہ
آہیں ہیں چیخیں ہیں
نوحے ہیں نالے ہیں
زندگی کی دھوپ کی بجائے
ہیں ہر طرف پھیلے موت کے سائے
چاند تارا سورج
یہاں جو بھی نکلتا ہے
جبر میں جکڑا جاتا ہے
قبر میں اتارا جاتا ہے
یہ کیسی جنت ہے
جہاں
ہر جگہ فسادوشر ہے
سلامت کہاں کوئی سر ہے
جہاں آگ کے بادل گرجتے ہیں
شعلے سے لپکتے ہیں
خون برستا ہو
دل سلگتا ہو
ہائے!کتنی تلخ روداد ہے
میری جنت کی
شامیں جس کی خون سے رنگیں ہوں
حبس بے جا میں مکیں ہوں
صبحیں جس کی ماتم کناں ہوں
سامنے جلے کٹے انساں ہوں
یہ کیسی جنت ہے
جس کا ہر باسی
مجبور ہے مظلوم ہے
اپنی ہی جنت سے محروم ہے
اس جنت میں رہنے والوں کے چہروں پر
پڑھو اداسی سے لکھی تحریر کو
پڑھو لہو لہو ہوتی جنت نظیر کشمیر کو
پھیلا ہوا ہے دست قاتل ہر سو
لہو ہی لہو ہے چار سو
سنو
میری اس جنت پر
منڈلاتی ہوئی بھارت کی فسطائی ریاست ہے
اور
شعلوں کی زد میں
میری سلگتی ہوئی جنت ہے
ایک تبصرہ شائع کریں