نظم
کشمیر آزاد ہو گا
ختم یہ استبداد ہو گا
غاصب برباد ہو گا
مودی سرکار!سن
تو چاہے
خون کی ندیاں بہا دے
قہر قیامت ڈھا دے
بھلے آئین بھی بدلا دے
اس کشمیر کو
جنت نظیر کو
درد کی تصویر بنادے
غلامی کی زنجیر پہنا دے
ہندووں کی جاگیر بنادے
آگ لگا دے چناروں کو
اجاڑ دے گلزاروں کو
روند دے لالہ زاروں کو
وادی وادی لہولہان کر دے
ختم ہر بوڑھا جوان کر دے
برباد کھیت کھلیان کر دے
تو اجاڑ دے سہاگ
لگا دے ہر جگہ آگ
بنا دے ہر فوجی ناگ
مگر مودی سرکار
یاد رکھ
کشمیریوں کا کشمیر ہے
خون سے یہ تحریر ہے
بدلنے والی ان کی تقدیر ہے
ظلم کی رات ڈھل کے رہے گی
کشمیر کی قسمت بدل کے رہے گی
نوید سحر مل کے رہے گی
مودی سرکار
یاد رکھ
کشمیر آزاد ہو گا
ختم یہ استبداد ہو گا
غاصب برباد ہو گا
ایک تبصرہ شائع کریں