حاکم نے کہا کوئی بھی کشمیر نہ جائے
اِس پار سے اُس پار کوئی تِیر نہ جائے
پلوامہ کی تاریخ نہ دھرائے کوئی بھی
لڑنے کو کوئی صاحبِ تدبیر نہ جائے
کشمیریوں کےساتھ کھڑےہونےکی باتیں
حاکم! تیری یہ عادتِ تشہیر نہ جائے
مغرب نے جامِ بزدلی حکامِ دیس کو
کچھ ایسی پلائی ہے کہ تاثیر نہ جائے
اقبال کو بتائیے شہ رگ کی مدد کو
اقبال تیرے خواب کی تعبیر نہ جائے
تکبیرِ اُولی ملنا سعادت تو ہے مگر
میداں میں تیرا نعرہِ تکبیر نہ جائے
گدی نشین لڑتے نہیں اِس خیال سے
کشمیر کےچکر میں کہیں کِھیر نہ جائے
واعظ! سناؤ درد بھری داستاں مگر
کیسے مرید جائیں اگر پِیر نہ جائے
غیرت کا سبق کس کو پڑھاؤں کہ یہاں ہر
رانجھے کے دل سے آرزوءِ ہِیر نہ جائے
کل رات ستمگر کی جودیکھی ستمگری
ہُدہُدمیری آنکھوں سےوہ تصویر نہ جائے
ایک تبصرہ شائع کریں