یہ بارشیں
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں
جو برس گئیں تو بہار ہیں
جو ٹہر گئیں تو قرار ہیں
کبھی شور ہیں کبھی چپ سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں
کسی یاد میں کسی رات کو
اک دبی ہوئی سی راکھ کو
کبھی یوں ہوا کے بجھا دیا
کبھی خود سے خود کو جلا دیا
کہیں بوند بوند میں گم سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں
یہ بارشیں بھی تم سی ہیں..
ایک تبصرہ شائع کریں