نظم
(کشمیری بہن کی پکار )
آزاد وطن کی آزاد فضاؤں میں رہنے والو!
تمہیں کیا پتا؟
بندوقوں کے سائے تلے
زندگی کیسے بسر ہوتی ہے؟
زندگی موت جیسے برابر ہوتی ہے
میں تمہیں بتاتی ہوں
دکھ درد کی کہانی سناتی ہوں
گلی میں جب بوٹوں کی چاپ سنائی دیتی ہے
موت رقص کرتے دکھائی دیتی ہے
شام جب ڈھلتی ہے
رات ہوتی ہے
اندھیرا جب لپٹتا ہے
بدن سارا خوف میں ڈھلتا ہے
دستک ہوتی ہےجب دروازے پر
آہنی ہتھوڑا سا لگتا ہے سینے پر
رات کو بھلا کب سوتی ہوں
موتی پروتی ہوں
ستارے گنتی رہتی ہوں
اپنے پیاروں کی خیر کی مالا جپتی رہتی ہوں
صبح جب
اپنوں کو سلامت دیکھتی ہوں
خدا کا شکر ادا کرتی ہوں
سکول کے لیے
بچے کو جب تیار کرتی ہوں
ہائے!تم کیا جانو
میں تمہیں بتاتی ہوں
رغبت ہے اسے پلاو سے
بناتی ہوں بڑے چاو سے
پھر کچھ سوچ کے
ٹفن سے اس کے
بوٹیاں نکال لیتی ہوں
کتنی اذیت سے گزرتی ہوں
کتنی بار مرتی ہوں جیتی ہوں
بیٹی جب کالج جاتی ہے
سانس آتی ہے نہ جاتی ہے
آنکھیں پتھرائی پتھرائی سی رہتی ہیں
سانسیں اکھڑی اکھڑی سی رہتی ہیں
سہاگ میرا جب کام پر جاتا ہے
سہمے سہمے سے
دکھ بھرے لہجے سے
الوداع کہتا ہے
مڑ مڑ کر دیکھتا ہے
ہائے!تم کیا جانو
میں تمہیں بتاتی ہوں
گھر میں اکیلی ہوتی ہوں
ہنستی ہوں نہ روتی ہوں
دروازے کے پاس کھڑی رہتی ہوں
انجانے خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں
خونی درندے ڈراتے رہتے ہیں
ایسے میں
زندگی بھلا کب مسکراتی ہے
تمہیں کیا پتا ہے
تم نے بھلا کب دیکھا ہے
ہاں!میں نے دیکھا ہے
ٹپکتا ہوا خون ،سسکتی آہیں
تار تار ہوتی ہوئی مقدس قبائیں
جلتی بستیاں اور شعلے اگلتی آگ
پھنکارتے ہوئے پاگل ناگ
اجڑتے بہنوں کے سہاگ
لہولہان ہوتی گلیاں
خون کی بہتی ندیاں
چیختی سسکتی بیٹیاں
مسلی ہوئی معصوم کلیاں
بین کرتی مائیں
سینوں کو چیر دینے والی صدائیں
ننگا رقص دیکھا ہے
وحشت و بربریت کا
خونی کھیل کھیلتے دیکھا ہے
ظلم و سفاکیت کا
تم نے کبھی سنا ہے؟
ہاں!میں نے سنا ہے
عید قربان پر قربانی نہ دی جائے
سنت ابراہیمی ادا نہ کی جائے
بے گوروکفن ہی رہنے دیا جائے
خبر دار!گھروں سے باہر نکل کر
اپنے پیاروں کی لاشوں کو اٹھایا نہ جائے
دفنایا نہ جائے
سنو!
انسانیت پر جب عہد خزاں ہو
جہاں ہر شام،شام غریباں ہو
ہر صبح،صبح قیامت ہو
کسی کو کچھ بھی نہ ندامت ہو
ایسے میں بتاو
زندگی بھلا کب مسکراتی ہے
زندگی کیسے بسر ہوتی ہے
زندگی موت جیسے برابر ہوتی ہے
ایک تبصرہ شائع کریں