اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

سوشل میڈیا پر ڈسکشن کے آداب

سوشل میڈیا پر ڈسکشن کے آداب 
(Social Media Etiquette)

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سوشل میڈیا ڈسکشن:
١.علم انسان کی ترقی اور تنزلی کی چابی ہے- تاریخ اور تجربہ سے ثابت ہے کہ جن اقوام اور افراد نے علم سے استفادہ کیا انہوں نے ترقی اور عزت حاصل کی-

٢. ہم مخلف ذرائع سے علم حاصل کرتے ہیں اور علم کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر اپنی رائےقائم کرتے ہیں- کوئی انسان کسی موضوع  مکمل علم کا دعوی نہیں کر سکتا- اس لیے ہماری ہماری رائے مضبوط ہو سکتی ہے مگر حتمی نہیں، بہتری کی گنجائش رہتی ہے- مختلف افراد کا علم اپنی دلچسپی اور مطالعہ کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتا ہے- ہم الله سے علم میں اضافہ کی دعا کرتے ہیں :

رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ﴿١١٤﴾

“اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے” (20:114 قرآن )

٣.سوشل میڈیا پر ڈسکشن آپس میں تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ  ایک دوسرے سے علم حاصل کرنے اور  رائے  میں اضافہ یا تبدیلی کا زریعہ ہو سکتا ہو سکتا ہے – ہم مسلمان کی حثیت سے قرآن و سنت رسول الله ﷺ پر عمل کے دعوے دار ہیں، مگر بحث مباحثہ کرتے ہوے الله، رسول ﷺ کی سنت و احکام کو بھول کر ابوجاہل کا رویہ اپنا لیتے ہیں- جن کے لیے ارشاد ہوا:

“اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو،” (سورة النحل6:125)

سوشل میڈیا ایک زریعہ ہے جو استعمال ہو سکتا ہے …  اللہ کے بندوں کو راہ مستقیم اور ہدایت والے راستہ کی رہنمائی کرنے  اور اور برے راستہ سےروکنے میں۔ یہ کسی عالم یا مولوی کی نہیں ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، نیک ہوں یا گناہگار!

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ ﴿آل عمران:۱۱۰﴾

“(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو”

٤. اگر کوئی مضبوط دلائل دے جو آپ کی عقل کو قبول ہوں تو قائل ہو کر رائے کو  تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں- اگر جواب میں مناسب دلائل  نہیں تو ضد، ہٹ دھرمی بے فائدہ  فضول ہے-

٤.گالی  گلوچ اور بدتمیزی سے دوسرا شخص تو قائل نہ ہوگا مگر آپ ابنی علمی اور جہالت کا اظھار کر رہے ہیں ، جو قطعی   غیر مناسب ہے-

سوشل میڈیا  ایک ٹرم “پٹواری”جس کی مونث  “پٹوارن ” بہت مقبول ہے- اس کے لغوی معنی  تو سب جانتے ہیں مگر استعارہ کا جو مطلب سمجھ میں اتا ہے کہ: “پٹواری” ان افراد کو کہ جاتا ہے جو اپنے نظریات پر سختی سے قائم رہتے ہیں، کسی عقلی یا نقلی  دلیل کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنے نظریات پر نظر ثانی  نہیں کرتے- یہ اصطلاح اگرچہ مخصوص سیاسی گروپ کے خلاف مستعمل  ہے مگر ہر گروپ اور شعبہ  میں “پٹواری” موجود ہے- بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہم سب اس مائنڈ سیٹ کا شکار  ہوتے ہیں، کچھ لوگ جلد اس سے چھٹکارا پا لیتے ہیں مگر اکثریت اس میں پھنس کر رہ جاتے ہیں ..  یہ ایک رویہ ہے- قدیم مثال مکہ کے “ابو جاہل” کی ہے جو اپنی فہم و فراست کی وجہ سے “ابو حکمہ” کہلاتا تھا-

مذہبی معاملات اور عقائد جن کا منبع قرآن و سنت ہو ایسا غیر متزلزل ایمان قابل فہم ہے مگر دنیاوی، سیاسی معاملات  جواکثر افراد کی اپنی سوچ اور کام سے متعلق  ہوتے ہیں اس طرح  کا بے لچک رویہ منفی ہی ہو سکتا ہے – سیاسی رہنما انسان ہوتے ہیں جو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے نظریات بدلتے رہتے ہیں ان کی اندھی تقلید گمراہ کن اور نقصان دہ ہو سکتی ہے-

اگر ہم کسی غلط بات کی سپورٹ کرتے ہیں یا دلیل کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو اچھائی یا  برائی میں حصّہ دار بن جاتے ہیں، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اچھی بات کی تایید اور غلطی  پر تنقید کریں- اگر کسی رہنما کو ہم محبت کرتے ہیں وہ اچھے کام  کرتا ہے مگر کرپشن میں بھی ملوث پایا جاتا ہے تو ہم اس کی کرپشن کا دفاع  کیوں کریں؟ ہم گناہ اور برائی می حصہ دار کیوں بنیں؟ اگر کوئی مذھب کے نام پر اچھی پاتیں کرتا ہے، اچھے کام کرتا مگر دہشت گردی اور قتل و غارت کو جائز کہتا ہے تو ہم اس کے اس حرام فعل کی سپورٹ کر کہ قتل و غارت میں حصہ دار کیوں بنیں؟

اس ضمن  میں قرآن ہماری رہنمائی فرماتا  ہے:

مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُن لَّهُ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا (النسا،85)

” جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے (قرآن ;4:85)

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (8:22 قرآن)

یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ( قرآن8:22)

لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ

جو ہلاک ہو، دلیل پر  ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر زنده رہے (قرآن ;8:42)

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ ﴿١٨﴾

“بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وه اسی وقت نابود ہو جاتا ہے، تم جو باتیں بناتے ہو وه تمہاری لئے باعﺚ خرابی ہیں”(قرآن ;21:18)

٥.اگر کسی “پٹواری” یا  “پٹوارن”  سے واسطہ پر جائیے توبہتر ہے کہ خوشگوار طریقه سے سلام کر کہ  الوداع کریں- کمنٹس کو ڈیلیٹ کرنا ، دھمکی دینا یا بلاک کرنا ، غیر مہذب رویہ ہے جس سے اجتناب کرنا چاہیے-

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا [ الفرقان 63:25 ]

” رحمن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی (آہستگی) کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے (جاہلانہ) باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔”

ہم مسلمان کی حثیت سے قرآن و سنت رسول الله ﷺ پر عمل کے دعوے دار ہیں، مگر بحث مباحثہ کرتے ہوے الله، رسول ﷺ کی سنت و احکام کو بھول کر ابوجاہل کا رویہ اپنا لیتے ہیں- جن کے لیے ارشاد ہوا:

اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو، (سورة النحل6:125)

خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (7:199)

آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں (7:199)

اگر کوئی وہم، شک ہو تو تحقیق کریں ، غیر مصدقہ ، جھوٹی ، مشکوک انفارمیشن سے پرہیز کریں-

ا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿٦﴾

“اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو (49:6قرآن )

یہ اللہ کے بندوں کو راہ مستقیم اور ہدایت والے راستہ کی رہنمائی کرتے ہیں اور برے راستہ سےروکتے ہیں ۔اور خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی حکمت و دانائی سے عمل کی ترغیب دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ ﴿آل عمران:۱۱۰﴾

“(مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو”

“لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی ااچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے (16:125سورة النحل)

إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّـهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ (8:22 قرآن)

یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ( قرآن8:22)

لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ

جو ہلاک ہو، دلیل پر  ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر زنده رہے (قرآن ;8:42)

کوئی ضروری نہیں کہ اتفاق رائے ہو ،علمی اختلاف میں بھی بہتری ہو سکتی ہے-

وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا [ الفرقان 63:25 ]

” رحمن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی (آہستگی) کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے (جاہلانہ) باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔”

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ
لیبلز:

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget