دوسروں کی مدد کےطریقے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کتنے ہی انسان اور جانور روزانہ دکھ جھیلتے ہیں۔ ان کی کئی طرح سے مدد کی جا سکتی ہے، مگر اس کا انحصار ان کی صورت حال کو پہچاننے اور ان کی مدد کے بہترین طریقہ کو سمجھنے پر ہے۔ محض درد مندی اور مہارت ہی کافی نہیں – ہمیں اس کے لئیے وقت بھی وقف کرنا چاہئیے، اور ضبط نفس، صبر، استقامت، ارتکاز ار ادراک کی بھی ضرورت ہے۔ دوسروں کی مدد کے بہت سے طریقے ہیں لیکں یہاں ہم گیارہ طریقوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ ان سے نہ صرف حاجت مندوں کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ یوں ہم اپنے تنہائی کے خول سے باہر نکلتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو با مقصد بناتے ہیں:
*(1) مصیبت زدگان کی دیکھ بھال*
ہمیں ان لوگوں کی تیمار داری کرنی چاہئیے جو بیمار، مفلوج یا درد میں مبتلا ہیں۔ اگر ہم کسی کو بھاری وزن اٹھاتے یا کوئی مشکل کام کرتے دیکھیں تو ہم آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔
*(2) اپنی مدد کے معاملہ میں جو الجھن میں ہیں ان کی راہنمائی*
جو لوگ مشکل حالات میں الجھن کا شکار ہیں، ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں اگر وہ اسے طلب کریں، یا کم از کم سننے کو تیار ہوں۔ اگر ہمارا کتا یا بلی کسی کمرے میں بند ہو تو ہم دروازہ کھولتے ہیں تا کہ وہ باہر نکل سکے۔ ہم یہ طریقہ کسی مگس کے لئیے بھی آزماتے ہیں جو کھڑکی پر منڈلا رہی ہو۔ وہ مکھی کمرے سے باہر جانا چاہتی ہے اس لئیے ہم کھڑکی کھول دیتے ہیں تا کہ وہ باہر نکل جاۓ۔
*(3) جن لوگوں نے ہماری مدد کی ہے ان کے احسان کا بدلہ چکانا*
وہ لوگ جن کے کام کی بدولت دنیا کا کاروبار چلتا ہے اس کی قدر کرنا، اور ان کی مدد کرنا – مثلاً ہمارے والدین, اساتذہ، رشتے دار – جنہوں نے ہمارے لئیے اتنا کچھ کیا۔ یہ کام ہمیں خلوصِ دل سے کرنا ہے نہ کہ کسی احساس جرم یا مجبوری کے تحت۔
*(4) خوف زدگان کو دلاسہ اور تحفظ دینا*
ہمیں خوف کے مارے ہوۓ انسانوں اور جانوروں کو دلاسہ دینے کی پوری کوشش کرنی چاہئیے۔ اگر کسی کو کسی ایسی خطرناک جگہ جانا ہے جہاں نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، تو ہم ان کے ہمراہ جانے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔ خصوصاََ بزرگ اور نابینا افراد۔۔۔۔۔ ۔ ایسے لوگ جنہیں کسی بد سلوکی سے صدمہ پہنچا ہے وہ خاص طور پر ہماری ہمدردی اور مدد کے مستحق ہیں تا کہ ان کے زخمی جذبات مندمل ہو سکیں۔
*(5) دکھی لوگوں کو دلاسہ دینا*
جب لوگ بوجہ جھگڑے یا کسی عزیز کی موت پر ماتم کناں ہوں، تو ہم درد مندانہ سلوک سے ان کی دلجوئی کرتے ہیں۔ ہمیں کبھی بھی ان کا مربّی بننےکی کوشش نہیں کرنی چا ہئیے، یہ سوچ کر،" اوہ تو بیچارہ،" بلکہ اپنے آپ کو ان کی جگہ رکھ کر ان کا درد بٹانا چاہئیے۔
(6) غریبوں کو مالی امداد مہیا کرنا
خیراتی اداروں اور بھکاریوں کو چندہ دینا اچھی بات ہے، مگر سڑک پر موجود کم آمدنی والے افراد کی بھی مدد کرنی چاہئیے۔ ہمیں رازدارانہ گفتگو سے پرہیز کرنا چاہئیے، خصوصاً اگر بے گھر افراد گندے اور ناگوار نظر آتے ہوں، اور ہم انہیں دیکھنے کے بھی روادار نہ ہوں، پھر بھی ان سے مسکراہٹ اور عزت سے پیش آئیں۔ ذرا سوچئیے کہ اگر وہ سڑک پر رہنے والا شخص ہماری ماں یا بیٹا ہو تو: یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ان کے پاس سے یوں سرد مہری سے گزر جائیں جیسے کہ وہ کوئی بدبودار آلائش کا ڈھیر ہوں؟
*(7) دوسروں کی مدد ان کی خواہش کے مطابق*
ہمیں لوگوں کی مدد یوں کرنی چاہئیے جو ان کے لئیے موزوں ہو۔ اگر کوئی ہمیں ان کو کچھ سکھانے کے لئیے کہے، تو بھلے یہ ہمارا من پسند کام نہ بھی ہو، تو اگر یہ ان کے لئیے مناسب ہو اور ہم اس کو کرنے کی قدرت رکھتے ہوں، تو ہمیں اپنی پوری سی کوشش کرنی چاہئیے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ ہم دوستوں کے ساتھ کہیں باہر کھانا کھانے جائیں، تو یہ بےحسی اور خود غرضی ہو گی اگر ہم ہمیشہ وہیں جائیں جہاں ہمارا مرغوب کھانا ملتا ہے۔ ہمیں کبھی کبھار دوسروں کی خوشنودی کو بھی مد نظر رکھنا چاہئیے۔ مثلاً جیسے کسی تعلق داری میں ہمیں ہماری پسند اور دوسرے شخص کی پسند کے درمیان سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہمیشہ ہماری پسند اور خواہش کا معاملہ نہیں ہوتا۔
*(8) جو راست باز ہیں ان کی حوصلہ افزائی*
راست باز لوگوں کی حوصلہ افزائی کر کے ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں – وہ جو مثبت راہ پر گامزن ہیں اور کار خیر کر رہے ہیں – یہ مدنظر رکھتے ہوۓ کہ ہم انہیں مغرور نہ بنا دیں۔ یہ اس وقت اور بھی اہم ہے جب ہم کم عزت نفس والے لوگوں سے معاملہ کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کے معاملہ میں جو عمدہ صفات کے مالک ہیں مگر مغرور ہیں، ہم دوسروں کے سامنے ان کی ستائش کر سکتے ہیں، مگر ان کے منہ پر نہیں۔ ہم پھر بھی دوسروں کی مدد کرنے کے لئیے انہیں ان کی صلاحیتوں کو بروۓ کار لانے پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مگر ان کی غلطیوں کی طرف اشارہ کر کے ان کے تکبّر کو کم کرنے سے بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔
*(9) تباہ کن زندگیاں گزارنے والوں کو تعمیری رویہ کا درس*
اگر ہمیں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے جو نہائت نقصان دہ، منفی زندگیاں بسر کر رہے ہیں، تو ہمیں یوں ہی انہیں رد نہیں کر دینا چاہئیے۔ لوگوں کے بارے میں کوئی راۓ قائم کرنے کی بجاۓ ہمیں ان کو منفی رویہ پر قابو پانے کے ڈھنگ سکھانے چاہئیں۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ
ایک تبصرہ شائع کریں