اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

ترقی کے لیے ذہنی و مالیاتی توانائی کی ضرورت



ترقی کے لیے ذہنی و مالیاتی توانائی کی ضرورت


گلوبل کلچر کے دروازے سائنس کی تخلیقات نے کھولے ہیں اس کلچر کو اختیار کرنے کے بجائے سائنسی جمہوریت کی ضرورت ہے۔ ایک سوال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں نیشنلزم پیدا نہیں ہوا اس کی بنیادی وجہ یہ کہ پاکستان میں صنعتی و تجارتی کارہائے نمایاں ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کے بیس ترقی یافتہ ممالک میں کھڑا کر دیتے تو عوام اس پر فخر کرتے اور برسرروزگار ہوتے۔ جب تک بکھری ہوئی قوم کو عالمی مسابقت میں پیش پیش ہونے کے لیے معاشی اور سائنسی شعبوں میں فتوحات نظر نہیں آئیں گے نیشنلز پیدا ہونا محال ہے۔ مثلاً کرکٹ کی چند فتوحات تمام صوبوں کو یکجا کر دیتی ہے لیکن گلوبل کلچر میں فزیکل کلچر ایک شعبہ نہیں بلکہ اولمپک میں پہلے دس بارہ ملکوںمیں جگہ بنانے کی ضرورت ہے یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ملک معاشی طور پر مستحکم ہو۔ اس کے لیے خاص طور پر برآمدات میں جست لینی ہوگی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کو برآمد کرنا ہوگا لیکن ملکی برآمدات تو بنگلہ دیش سے بھی پچاس فیصد کم ہیں تو پھر نیشنلزم کیے ابھرے گا۔ ادنیٰ عصبیتوں میں جکڑنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ صنعتی و تجارتی ترقی میں ہم کہیں کھڑے نظر نہیں آتے۔ نیشنلزم نفسیاتی توانائی ہے اس نفسیاتی توانائی کو سائنسی فتوحات پر مرکوز کر کے حاوی حاصلات کے قومی سرمائے سے سائنسی نیشنلزم تعمیر ہوتا ہے۔ پاکستان میں جاگیردارانہ (ویلیوز) اقتدار کی گرفت مضبوط ہے۔ اسی لیے ملک سے محنت، ٹیلنٹ وسائل فرار ہورہے ہیں اور اس فرار کو روکنے کی بجائے سرکاری سطح پر اس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اسی لیے ترسیلات زر معیشت کا بھرم رکھے ہوئے ہے۔ فنانشلائزیشن نے دنیا کو جوئے کا اڈہ (معیشت کا کیسینو) بنا دیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کے سب سے بڑی کھلاڑی جارج سوروس نے راتوں رات دو ارب ڈالر کا کھیل جیتا اور پھر ایک دن ہانگ کانگ کے اسٹاک مارکیٹ میں اربوں ڈالر ہار گیا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کی معیشت کو منصفانہ طور پر ریگولیٹ نہیں کیا تو  موجودہ نظام تباہ ہو کر انارکی پھیلا دے گا۔مغربی دانشوروں کے ایک حلقے نے ہوس گیری اور لوٹ مار سے تباہ ہوتے یورپی امریکی کارپوریٹ شعبے کی حالت دیکھی تو انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری شعبے کی ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی سرمائے اور اس پر قابض ساہوکاروں کی آزاد معیشت کو بغیر منصفانہ ضابطوں کے امیر ممالک کا غریب ملکوں پر معاشی قبضہ جائز قرار دیا جائے اور یہ سوچ لیا جائے کہ آزاد تجارت اورنجکاری ہی ہر قسم کی کرپشن اور سرکاری بد اعمالیوں کا نعم البدل ہے۔ سرکاری اداروں کی مخدوش حالت سے قطع نظر جب ہم ایزون، ورلڈ کام، سنگر اور اکائی جیسی کئی کمپنیوں میں کرپشن کے نتیجے میں دیوالیہ پن کی صورت دیکھتے ہیں تو مذکورہ دلیل "نجکاری نعم البدل نہیں ہے" درست اور معقول دکھائی دیتی ہے۔ کئی ملکوں کے معاشی دانشوروں نے جی سیون ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف آواز اُٹھاتے ہوئے اقتصادی حب الوطنی اور انڈجنائزیشن پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ امیرممالک میں بھی زائد پیداوار کے رُجحان اور فنانشلائزیشن کی کیسینو معیشت نے چھوٹے سرمایہ کاروں اور عوام کی رقوم ہضم کرنے کے عمل کا آغاز "ایزون" سے کیا تو امیر ملکوں میں کسادبازاری نے جنم لیا جو گیارہ ستمبر کے حادثے کے بعد زیادہ شدید ہوگئی، ان ملکوں میں بھی بیروزگاروں، کم اُجرت پانے والوں اور ماحولیات کے ہمدردوں نے بڑے بڑے مظاہرے کیے۔ دُوسری طرف غریب ممالک کے افلاس زدہ شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ معیشت کی منڈی عالمی مالیاتی اداروں اور ملٹی نیشنلز نے ایسا معاشی تسلط قائم کر لیا ہے۔ جس سے نجات کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا، اس وقت پوری دُنیا پر پانچ سو بڑی ملٹی نیشنلز کمپنیاں حکومت کر رہی ہیں جو دُنیا کے نوے فیصد سرمائے کی مالک ہیں، اگر یہ کمپنیاں چاہیں تو دُنیا صرف تیس سیکنڈ میں معاشی طور پر تباہ ہو سکتی ہے۔ ایک مغربی سروے کے مطابق بڑی ملٹی نیشنلز کمپنیوں میں سے دو سو بارہ کمپنیوں کا تعلق امریکا سے ہے جبکہ نصف کمپنیوں  کے زیادہ حصص یہودیوں کے پاس ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اریکسن موبائل دُنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ دُنیا بھر میں اس کے اثاثے دو لاکھ دس ہزار تین سو بانوے ملین ڈالر ہیں۔ یہ کمپنی چاہے تو تنہا براعظم آسٹریلیا کو خرید سکتی ہے جبکہ ٹاپ ٹین کی فہرست میں شامل تین کمپنیاں مل کر آدھی دنیا خرید سکتی ہیں۔ وال مارٹ، دوسرے نمبر پر ہے۔ دنیا میں اسکے اثاثے ایک لاکھ ترانوے ہزار دو سو پچانوے ملین ڈالر ہیں۔ یہ کمپنی پوری دنیا کو دوسال کا راشن خرید کر دے سکتی ہے۔ اسی وجہ سے لاطینی امریکا میں یہ نعرہ عام ہوگیا ہے کہ
“Price of Free Trade is Famine
(آزاد تجارت کی قیمت قحط ہے) عالمی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنرل موٹرز جو دُنیا کی تیسری گلوبل کمپنی ہے اس کے اثاثے ایک لاکھ چونتیس ہزار سات سو بتیس ملین ڈالرز ہیں۔ یہ کمپنی دنیا کے ہر شخص کو ایک گاڑی مفت فراہم کرسکتی ہے اور تین سمندروں کا پانی صاف کر کے دنیا بھر کے صحراؤں کا نخلستان میں تبدیل کرسکتی ہے، اس لیے سابق امریکی صدر روز ویلٹ نے کہا تھا کہ "ہم اس وقت دنیا کو امریکا یا سوویت یونین کہ رہے ہیں بہت جلد یہ ملٹی نیشنلز کی دنیا ہوجائے گی" ان ملٹی نیشنلز کا تعلق جی سیون ممالک سے ہے اور عالمی تجارتی ادارے ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget