اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

ہمت مت ہاریں



 انسان  کو ہمیشہ اللہ پر کامل یقین رکھنا چاہیے اور کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔کبھی کبھار بہت زیادہ محنت کے باوجود ہم وہ     چیز نہیں حاصل کر پاتے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم منزل تک پہنچنے ہی والے ہوتے ہیں کہ ہم ہار مان لیتے ہیں اور ہماری ساری محنت رائیگاں ہو جاتی ہے ہم جب ایک دو دفعہ ناکام ہو جاتے ہیں ہیں تو ہم دوبارہ کوشش بھی نہیں کرتے ہم اپنے دماغ میں یہ الفاظ نقش کر لیتے ہیں کہ یہ ہم سے نہیں ہوگا اس کے بعد ہمیں کوئی صحیح راستے پہ نہیں لا سکتا کیونکہ ہم خود ہی صحیح ہونا نہیں چاہتے وہ کہتے ہیں نہ کہ خدا اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک اسے خود احساس نہ ہو اپنی حالت بدلنے کا اسی لیے انسان کو ہمیشہ صبرو تحمل سے کام لینا چاہیے اورمسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔


  محمود غزنوی کی مثال تو ہمارے سامنے ہی ہے جس نے انڈیا پرسترہ حملے کئے۔مسلسل پندرہ حملے کے بعد جب سولہویں حملہ میں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو ہمت ہار کے بیٹھ گیا اور دل میں سوچ لیا کہ اب حملہ نہیں کروں گا۔

 ایک دن اکیلا بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا تو دیکھتا ہے کہ ایک چیونٹی دیوار پر چڑھ رہی ہے اور چڑھتے چڑھتے بار بار گر جاتی ہے لیکن ہمت نہیں ہارتی اور دوبارہ کوشش شروع کر دیتی ہے محمود غزنوی کو یہ منظر اچھا لگا اور وہ دھیان لگا کر چیونٹی کو دیکھنے لگا چیونٹی کافی دیر تک کوشش کرتی رہی بار بار گرتی پھر اٹھتی اور دیوار پہ چڑھنا شروع کر دیتی آخرکار کافی زیادہ کوششوں کے بعد چیونٹی دیوار چڑھنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔محمود غزنوی جب یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتاہے تو سوچنے لگ جاتا ہے کہ یہ اتنی چھوٹی مخلوق ہوکربھی ہمت نہیں ہارتی اور بار بار تگ و دو کے بعد اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو مجھے کیا ہوا میں کیوں ہمت ہار کے بیٹھ گیا ہوں مجھے تو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے یعنی سب مخلوقات میں سے افضل۔ بالآخر وہ ایک بار پھر انڈیا پر حملہ کرتا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے اللہ اسے کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے اس لیے انسان کو مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔


اس طرح شارک مچھلی کو ایک بڑے کنٹینر میں بند کر دیا گیا اور جب کچھ اور چھوٹی مچھلیوں کو اس میں چھوڑا گیا تو شارک ان کو کچھ ہی لمحوں میں کھا گئی۔
اب ایملی (جو ایک میرین بائیولوجسٹ ہے) نے تجربے کے لیے اس کنٹینر کو درمیان میں سے ایک شیشے کی دیوار سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔
جب چھوٹی مچھلیوں کو دوسرے حصے میں چھوڑا گیا تو شارک نے پہلے کی طرح حملے کی کوشش کی پر شیشے کی دیوار کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ پر وہ بار بار کئی گھنٹوں تک شیشے سے سر ٹکراتی رہی۔ پھر تھک ہار کر اس نے سمجھو تا کر لیا۔
اگلے دن ایملی نے پھر چھوٹی مچھلیوں کو کنٹینر کے دوسرے حصے میں چھوڑا۔ شارک نے پھر کوشش کی پر اس دفعہ جلدی ہار مان لی۔ کچھ دن مزید یہی تجربہ دہرانے کے بعد ایک ایسا دن آیاکے شارک نے ایک دفعہ بھی کوشش نہ کی۔
ایملی نے اگلے دن وہ شیشے کی دیوار ہٹا دی۔ اب حیران کن بات یہ کہ چھوٹی مچھلیاں شارک کے ارد گرد تیر رہی ہیں پر شارک ان سے بالکل بے پرواہ ہے۔ کیوں کی کچھ دن کی کوشش اور ناکامی نے اس کے لاشعور میں یہ بات ڈال دی کہ یہ چھوٹی مچھلیاں اس کی دسترس میں نہیں۔

بالکل انسان اسی طرح کچھ ناکامیوں سے مایوس ہو کر کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اسے کیسے ہی مواقع کیوں میسر نہ آئیں وہ اپنی پرانی ناکامیوں کی وجہ سے دسترس میں موجود ہر موقع کو ٹھوکر مار دیتا ہے۔لہٰذا انسان کو ہمت کبھی نہیں ہارنی چاہیے اور مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
کوشش کرتے رھیں _______ جب تک آپ کامیاب ھو جائیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget