پچھلے دنوں اسلام آباد میں کچھ "آزاد خیال" خواتین انتہائی بھدی لکھائی میں کتبے اٹھائے باہر سڑکوں پر نکلیں تھیں۔ کتبوں پر لکھا تھا کہ اپنا سالن خود گرم کر لو۔ میں نے برتن نہیں دھونے، میں بھی ایک سخت لونڈا ہوں، اوربھی کچھ "اول فول" لکھا تھا۔
اوکے خواتین ! ہم مان لیتے ہیں آپ آج کے بعد "لونڈیا" نہیں، لونڈا ہیں، سو آج کے بعد کام بدل لیتے ہیں، کس شعبے سے شروع کریں گی ؟ چلیے ! کم ترین شعبے سے آغاز کرتے ہیں، یہ لکشمی چوک میں گٹر بند ہیں اور عوام فون کر کر کے ناک میں دم کیے جا رہے ہیں، سو "شیلا جی" اپنی جوانی دکھائیے، کہ آج سے آپ بھی ایک سخت لونڈا ہیں، ذرا ناک سے رومال ہٹائیے کیونکہ آپ کے میاں صاحب کل اسی گٹر میں اتر کے جان کھپا رہے تھے انکو بھی بو آتی تھی مگر وہ سب بھول کے لگے رہے۔
یہ واپڈا کا کھمبا ہے، ذرا پائے نازک سے پائل اتاریے، چل میری چندا، ذرا اوپر چڑھ نا اور ہاں! "اوئی ، ہائے اللہ جی، مر گئی" جیسی آوازیں نکالنا منع ہیں، چلیے جلدی کیجئے، ارے ہاں دھیان سے کرنٹ نہ لگ جائے۔ کیا کہا، دستانے بھاری ہیں؟؟ ہیں، بھلا دستانے بھی بھاری ہوتے ہیں؟؟ اچھا میڈم جی، آپ بھی آئی ہیں ؟ آپ بھی بہت سخت لونڈا ہیں ؟ چلیں پھر ذرا یہ پیاز کی بوری اٹھائیں اور اسکو اس ٹرک پر پھینک کے آئیں، کیا کہا بھاری ہے ؟؟ ارے نہیں تو، ڈھائی من کی ہی تو ہے، اور آپ ہی نے تو کہا تھا کہ آپ سخت لونڈا ہو؟
بس آج کے بعد من من کے برتن نہیں دھونا پڑیں گے، نہ ہی ہزاروں کلو کے کپڑے استری کرنا ہوں گے۔ بس یہ "پھول" سی ہلکی پھلکی بوریاں ہیں، ریشم کی گانٹھ جیسی، چلو اٹھاؤ انکو، انکو اٹھاؤ گی تو پیسا ملے گا، مزدوری ملے گی تو گھر چلے گا نا، چل شاباش، گھر میں تیرا میاں برتن دھو دھو کے تھک گیا ہے اور انتظار میں ہے کہ تُو "کما" کر لائے گی تو وہ ہانڈی چڑھائے گا، مجھے یقین ہے کہ ہماری ان "معصوم" خواتین کی یہیں پر بس ہو جانی ہے، ممکن ہے آپ بھی کہیں کہ جناب آپ نے بھی تو سیدھا گٹر میں اتار دیا، ٹرک پر چڑھا دیا، کھمبے پر لٹکا دیا۔
تو بھائی ان کی اپنی ہی تو ڈیمانڈ ہے، جب برابری کرنی ہے تو ڈیوٹی بھی برابر پوری کرنا ہوگی نا ؟؟ جب اللّٰہ کی تقسیم سے انکار کرنا ہے تو "اچھا اچھا ہپ اور کڑوا تھو" کا اختیار نہیں مل سکتا، اب ذرا زندگی کے دوسرے شعبہ جات کی طرف آ جائیے، کیا خواتین بیس بیس گھنٹے حشر کی گرمی میں ٹرک چلا سکتی ہیں، یا ملتان کی تپتی گرمی میں 15 گھنٹے میں کھدائی کر سکتی ہیں؟
ان کی بات کرتے ہوئے ایک اور بات یاد گئی کہ ایک دفعہ
بابا جی کھیت میں بھینس کو جوت کر ہل چلا رہا تھا اور چھپر میں بیل صاحب آرام فرما رہے تھے _ کسی سیانے کا گزر ہوا _
اس نے بابا جی سے پوچھا :
" یہ کیا تماشا ہے؟ تم نے بیل کو چھپر کے نیچے باندھا ہے اور بھینس کو ہل میں جوت رکھا ہے !"
بابا جی نے کہا :
"یہ بی بی شہر سے آئی ہے _ اس کی سہیلیوں نے اسے سمجھا کربھیجا تھا کہ دیہات میں مادہ جنس کو حقوق پورے نہیں ملتے ، لہذا تم پہلے ہی دن اپنے مالک سے اپنے حقوق کی بات کرنا _ اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ مجھے بیل کے برابر حقوق چاہیں _"
میں نے کہا :" بیل تو ہل جوتتا ہے _"
اس نے کہا : "میں گھر میں قید ہو کر نہیں رہ سکتی _جو کام بیل کرتا ہے وہ میں بھی کر سکتی ہوں _"
چنانچہ میں نے اسے ہل جوتنے پر لگا دیا _ اب یہ خوشی خوشی کھیت میں بھی کام کرتی ہے اور دودھ بھی دیتی ہے _
بیل کے پاس کرنے کو کام نہیں ، لہذا وہ سارا دن چھپر میں آرام کرتا ہے اور بھینس کو مزید اپنے حقوق مانگنے پر اکساتا رہتا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں