اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

میڈیکل سٹوڈنٹ کی ڈائری سے

#ایک_میڈیکل_سٹوڈنٹ
نہیں ابا ۔۔۔ آپ پریشان ذرا بھی نہ ہوں ۔۔۔  بیگ نہیں ہے تو کیا ہوا ۔۔۔ میں نے سارے کپڑے اماں کے ڈوپٹے میں باندھ دیے ہیں ۔۔۔وہاں مجھے کوئی طعنہ نہیں دے گا ۔۔ابا میڈیکل کالج  میں سارے سلجھے اور لائق طلباء آتے ہیں ۔۔۔
     فاطمہ کا جب میڈیکل کالج میں ایڈمشن ہوا تو ابا کے پاس جتنی جمع پونجی تھی ۔۔۔وہ ہاسٹل کی فیس اور باقی اخراجات کیلئے ہی پوری ہوسکی تھی ۔۔۔۔
  اس کے ابا  گاؤں میں اپنی تین ایکڑ زمیں پہ کاشت کاری کرکے  فاطمہ کو تعلیم دلوارہے تھے ۔۔۔۔
  اِلو تو ابھی بہت چھوٹا تھا ۔۔۔۔ تیسری کلاس میں گاؤں کے پرائمری سکول میں ہی پڑھتا تھا ۔۔۔۔
   اپنے سارے کپڑے اماں کے ڈوپٹے میں  باندھے ۔۔۔جب وہ میڈیکل کالج میں داخل ہوئی تو  لوگوں کی طنزیہ مسکراہٹ دیکھ کہ یہ احساس ہوگیا تھا کہ میڈیکل کالج کے بارے اس کا نظریہ غلط تھا ۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں ابا گیٹ سے اسے چھوڑ کے واپس چلے گئے تھے ۔۔۔ہاسٹل میں اس کی تین   روم میٹ عائشہ ، اقصی اور عارفہ تھیں۔۔۔ابا نے جاتے ہوئے ۵۰۰ روپے دیے تھے ۔۔۔۔دو ہفتوں کا خرچہ ۔۔۔۔ وہ شاید کافی امیر گھرانوں سے لگی تھیں ۔۔۔۔
 پہلے تین چار دن میں ہی فاطمہ کو احساس ہوگیا تھا کہ وہ غریب ھے اور غریبی ایک طعنہ ھے یہاں۔۔۔
پہلے ویک اینڈ ۔۔۔ عائشہ نے کہا تھا ۔۔یار ہمارا پہلا ویک اینڈ ھے ۔۔ پارٹی ہونی چاہئے ۔۔ شہر چلتے ہیں  ۔۔ کسی اچھے ہوٹل ۔۔ سب ایک ایک ہزار دو ۔۔۔ لیکن کے پاس تو ٹوٹل چار سو رہ گئے تھے ۔۔۔۔ نوٹس لئے تھے اس نے ۔۔ 
وہ تو پارٹی کرنے گئی تھیں ۔۔۔ اور فاطمہ روم میں اکیلی پڑھتی رہی تھی ۔۔۔ اور شاید یہ پڑھائی والا بہانہ بھی کتنا اچھا ہوتا ھے ۔۔۔ 
  وہ اپنی ساری نمازیں باقاعدگی سے پڑھتی تھی ۔۔۔ اور رومیٹ اسے حاجن بھی کہنے لگی تھی ۔۔۔اسے پہلے ہی ہفتہ یہ احساس دلا دیا گیا کہ تم ایک الگ طبقہ سے   تعلق رکھتی ہو ۔۔ جسے غریب کہتے ہیں ۔۔ اور تمھارے طبقہ کے   رسم ورواج 
الگ ہیں ۔۔۔اور عائشہ نے تو ایک دن واضح کہہ دیا تھا ۔۔۔ فاطمہ یار تمھارا اور ہم تینوں کا مزاج بہت مختلف ہے ۔۔۔  تم تھوڑی غریب اور مذہبی مزاج کی ہو ۔۔۔اور ہم تھوڑی دنیادار اور ماڈرن ۔۔۔ پلیز مائنڈ نہ کرنا ۔۔۔ اگر ہم کبھی ہلاگلا کریں تو۔۔۔  لیکن فاطمہ اگر تم روم تبدیل کرنا چاہو تو میں تمھاری کافی ہلپ کروں گی ۔۔۔ 
کلاس میں جب اس کے پاس get to gather  پارٹی کیلئے پیسے نہ تھے تو اسے غریبی کا طعنہ ملا تھا ۔۔۔  اس ویک اینڈ اس نے گھر جانا تھا ۔۔۔ وہ بہت خوش تھی ۔۔۔آج رات اس نے بچائے پیسوں سے اِلو کیلئے چابی والا جہاز خریدا تھا ۔۔۔۔ اب اس کے پاس صرف ۱۰۰ روپے کرائے کیلئے بچے تھے ۔۔۔ 
جب وہ بس سے اپنے گاؤں کو جانے والی سڑک پہ اتری تھی  تو اِلو نہر کے کنارے بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔ آتے ہی لپٹ گیا ۔۔ فاطی آپی ۔۔ کپڑوں کا شاپر اٹھا لیا تھا اس نے ۔۔ چابی والا جہاز دیکھ وہ بہت خوش تھا ۔۔۔  لیکن فاطمہ نے گھر نہیں بتایا تھا ۔۔۔ لیکن الو کو بتایا کہ ۔۔ غریبی کے طعنے ملتے ہیں ۔۔ کوئی اسے نہیں بلاتا کیونکہ اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے ۔۔۔ وہ الو کو اس لیے بتا دیتی تھی کیونکہ اسے کوئی سمجھ نہ تھی ان باتوں کی ۔۔۔
صبح جب الو  اسے چھوڑنے آیا تھا ۔۔۔ جب وہ بس پہ چڑھنے لگی تھی ۔۔ فاطی آپی میرے لئے اس بار ٹریکٹر ٹرالی لے آئیں گی آپ ؟؟؟ 
میں ضرور اپنے الو کیلئے لے آوں گی ۔۔۔۔
شام کو وہ سب روم میں پڑھ رہے تھے ۔۔۔۔  فاطمہ یار اگر مائینڈ نہ کرو تو تین کوک تو لے آو کینٹین سے ۔۔۔۔ان کا روم  تیسری منزل پہ تھا ۔۔۔اگر فاطمہ خود بھی پینی ہو تو لے لینا اپنے لئے ۔۔۔ 
نہیں عائشہ ۔۔۔مجھے اچھی نہیں لگتی ۔۔ اس کے بعد ان کا معمول بن گیا ۔۔۔ وہ اپنے سارے چھوٹے موٹے کام  کرانے لگی ۔۔۔ فاطمہ اس لئے ہرگز نہ کرتی تھی کہ وہ غریب تھی بلکہ اس کے ابا جی نے اسکی تربیت ایسے کی تھی۔۔۔
شام کو اپنی یونیفارم استری کرنے لگتی تو ساتھ اسے تین اور بھی مل جاتی تھی ۔۔۔ اب اس کی رومیٹ اس کے ساتھ خوش تھیں۔۔۔۔

آج کلاس کے بعد  ۔۔ اسے کسی نے بتایا کہ تمھاری ملاقات کیلئے کوئی آیا ھے ۔۔۔ لیکن وہ کالج کے گیٹ پہ ۔۔۔ وہ بھاگ کے گئی تھی ۔۔ وہ ابا تھے ۔۔ لیکن وہ اندر نہیں آئے تھے ۔۔ ابا آپ اندر اس لئے نہیں آئے نا کہ کالج والے مجھے طعنہ نہ دیں ۔۔۔ وہ رو پڑی تھی ۔۔ ابا آپ میرے سپر ہیرو ہیں ۔۔ مجھے آپ پہ فخر ھے ۔۔ وہ اپنے ابا  کا ہاتھ تھامے اسے سارا کالج دیکھا رہی تھی ۔۔۔ سال گزرتے پتہ ہی نہ چلا ۔۔۔ اب عارفہ اس کا کچھ کچھ خیال رکھنے لگی تھی ۔۔۔ آج عائشہ نے اسے اپنا پراناسوٹ آفر  کیا تھا ۔۔۔ نہیں عائشہ میرے پاس پہلے ۳ ہیں ۔۔۔عائشہ کافی ہنسی تھی ۔۔۔۔کیونکہ وہ تو ۳ ایک دن میں تبدیل کرتی تھی ۔۔۔
  آج اقصی پریشان تھی کسی نے اس کے پیسے چوری کر لئے تھے ۔۔۔ اقصی میرے پاس پانچ سو روپے ہیں ۔۔۔ میں نے جمع کئے تھے آپ رکھ لیں ۔۔۔۔
   فاطمہ نے اپنی ساری بچت اسے دے  دی تھی ۔۔۔
سکینڈائر اس کا مقام کچھ بڑھا تھا ۔۔ پروف میں اس کی تھرڈ پوزیشن آئی تھی ۔۔۔ 
  عائشہ تو اب بالکل اس سے نفرت کرنے لگی تھی ۔۔۔ وہ اس کی غریبی کو چھوت سمجھتی تھی ۔۔۔ اس کے سر پہ پیسے کا غرور ہی اتنا تھا ۔۔ یہ جن کے پاس نئ نئ دولت ہوتی ھے نا ۔۔۔ انھیں اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔۔۔
اس بارAnnual dinner  پہ یہ پابندی تھی کہ کوئی بےشک نہ آئے لیکن اسے ۵۰۰ روپے لازمی جمع کرانےہوں گے۔۔۔ 
   اس کے ۱۵۰ کم تھے ۔۔ ادھار مانگنے کیلئے ۔۔ اس نے بہت سوچا ۔۔ پھر عارفہ کو یہ کہتے ہوئے ۔۔ کہ میں فورا واپس کردوں گی۔۔۔   کیونکہ ایک غریب جب ادھار مانگتا ہے ۔۔ تو دینے والا سوچتا ضرور ھے کہ شاید ۔۔۔ 
آج پتہ نہیں کیوں گاڑی میں رو رہی تھی ۔۔ آج اس کے اتنے پیسے بھی نہ بچے تھے کہ وہ الو کیلئے کچھ لا سکتی ۔۔۔ نہر کے کنارے منتظر الو کتنا مایوس ہو گا ۔۔۔ 
فاطی آپی کوئی بات نہیں ۔۔۔ آپ آگئی ہیں نا ۔۔۔ اس بار ہم دونوں مل کے مٹی کے کھلونے بنائیں گے ۔۔۔ اس بار میرا آپ کیلئے بہت دل کیا ھے ۔۔
رات کو فاطمہ نے اماں کو بتایا کہ اس کی رومیٹ عارفہ گاؤں دیکھنے اس کے پاس آنا چاہتی ھے ۔۔۔ 
    جب عارفہ آئی تھی ۔۔۔ اماں نےاپنی  دہیز والی  چارپائی اتاری تھی ۔۔۔ عارفہ جاتے ہوئے ایک بات کہہ گئی تھی ۔۔۔ فاطمہ تم لوگ بہت امیر ہو۔۔۔  اتنے امیر کہ ۔۔ ساری دینا خرید سکتے ہو۔۔ اور ساری دنیا کی خوشیا ں ۔۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget