اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

ونڈر گرل



طعنہ دینے اور مذاق اڑانے والوں کو شکست دیں۔۔۔.
جھانوی پرور پانی پت کے گائوں شہرا ماپور میں پیدا ہوئی‘ رنگ بھی کالا تھا‘ قد بھی چھوٹا تھا اور قدرت نے اسے نین نقش بھی واجبی دیے تھے چناں چہ یہ ہر لحاظ سے خوش حالی‘ تہذیب‘ تعلیم اور جسمانی خوب صورتی سے محروم تھی لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک چھوٹا سا طعنہ آیا اور اس طعنے نے اس کا مقدر بدل دیا‘ جھانوی میں نقل اتارنے کا قدرتی ٹیلنٹ تھا۔
یہ مامی‘ چچی‘ پھوپھو‘ گلی کے پھیرے بازوں اور ریڈیو ٹی وی کے اناؤنسرز کی ہو بہو نقل اتار لیتی تھی اور یہ کام سارا دن جی بھر کر کرتی تھی‘ اس نے ایک دن چلتے پھرتے ٹیلی ویژن پر انگریزی کا کوئی شو دیکھا‘ اسے اینکر کا لہجہ پسند آگیا اور اس نے اسکی نقالی شروع کردی‘ یہ اس کے لہجے میں انگریزی بولنے لگی‘ اسے لفظ نہیں آتے تھے لیکن یہ پکا سا منہ بنا کر انگریزی لہجے میں باتیں کرتی رہتی تھی۔۔
گھر ہو‘ محلہ ہو یا اسکول ہو یہ ہر جگہ اس انگریز کے لہجے میں بات کرتی تھی‘ یہ ایک دن گلی سے گزر رہی تھی‘گزرتے گزرتے انگریز بن کر بات کرتی جا رہی تھی‘ محلے دار اسے دیکھ رہے تھے اور کھی کھی کر کے ہنس رہے تھے‘ اس کے ایک رشتے دار کو یہ مذاق برا لگا‘ وہ اس کے پاس گیا اور غصے سے بولا ’’اے چھوری تو بڑی انگریج بن کر پھر رہی ہے‘ بس کر‘ بند کر یہ ناٹک‘‘ رشتے دار کے طعنے میں کچھ ایسا تھا جس نے جھانوی پرور کو نئی راہ دکھا دی اور اس نے سوچا ،
’’مجھے انگریج کی نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
میں انگریج بن جاتی ہوں‘‘ یہ سیدھی گھر گئی‘والد کا ٹیپ ریکارڈ لیا‘ بی بی سی لگایا‘ خبریں ریکارڈ کیں اور برٹش لہجے میں انگریزی سیکھنا شروع کردی‘ قدرت نے اسے شاندار یادداشت سے نواز رکھاتھا‘ یہ جو لفظ سنتی تھی‘ وہ اسکے ذہن میں چپک جاتا تھا‘ جھانوی تین ماہ میں برطانوی لہجے میں فرفر انگریزی بولنے لگی‘ 
یہ انگریزی کے تقریری مقابلوں میں شریک ہونے لگی اور ہر بار جیت کر واپس آتی‘ والد نے اس کا ٹیلنٹ دیکھ کر اسے سپورٹ کرنا شروع کر دیا‘ جھانوی کو چند ماہ بعد پتا چلا کہ انگریزی زبان ایک ہے لیکن دنیا میں انگریزی کے 9 بڑے لہجے ہیں‘ اس نے یہ سارے لہجے سیکھنا شروع کردیے‘ والد اسے مختلف لہجوں کے کورس اور کیسٹ لا کر دیتا اور یہ ان لہجوں کی پریکٹس کرتی رہتی تھی‘ 
اس نے مقابلے جیت جیت کر رقم جمع کی اور کمپیوٹر خرید لیا‘ کمپیوٹر نے اس کی کیسٹس اور ٹیپ ریکارڈر سے جان چھڑا دی‘ آپ یہ جان کر حیران ہونگے یہ لڑکی 10 سال کی عمر میں برٹش‘ امریکن‘ کینیڈین‘ اسکاٹش‘ نارفوک‘ کوکنی‘ پوش اور آسٹریلین لہجے میں انگریزی بولنا سیکھ گئی‘ اس کا لہجہ اس قدر پختہ تھا کہ بڑے سے بڑے استاد بھی چکرا جاتے تھے۔ یہ حیران کن صلاحیت تھی ، چنانچہ یہ بڑی تیزی سے پورے بھارت میں مشہور ہوتی چلی گئی‘ حکومت نے 2015 میں اسے ممبئی انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن میں سرکاری افسروں سے خطاب کی دعوت دی‘ اس کی عمر اس وقت صرف 12 سال تھی اور یہ انسٹیٹیوٹ کی ہسٹری میں افسروں سے خطاب کرنے والی پہلی بچی تھی‘جھانوی نے مختلف لہجوں میں تقریر کر کے تمام بیورکریٹس کو حیران کر دیا‘ حکومت نے اس کے بعد اسے انسٹیٹیوٹ کا مستقل اسپیکر بنا دیا‘ یہ سال میں درجن مرتبہ انسٹیٹیوٹ جاتی ہے اور نئے اور پرانے بیوروکریٹس کو اچھی انگریزی بولنے اور سمجھنے کی ٹریننگ دیتی ہے۔
یہ صرف یہاں تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے انگریزی کے بعد فرنچ‘ اسپینش اور جاپانی زبان بھی سیکھ لی‘ یہ تینوں زبانیں بھی روانی سے بول لیتی ہے‘ اس کی عمر اس وقت 25سال ہے اور یہ بھارت میں ’’ونڈر گرل آف انڈیا‘‘ کہلاتی ہے‘ اسے ٹیلیویژن شوز میں بلایا جاتا ہے‘ یہ اکیڈمیز‘ انسٹی ٹیوٹس اور ڈبیٹنگ پلیٹ فارمز پر تقریریں کرتی ہے اور یہ بچپن ہی میں خوش حال ہو چکی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ طعنے مارنے والے لوگوں کو میں اپنا محسن قرار دیتی ہوں‘ یہ تمام لوگ میرے ہیلپر تھے‘ یہ لوگ اگر میری زندگی میں نہ آتے تو میں ہریانہ میں گم نام زندگی گزار رہی ہوتی‘ یہ وہ لوگ تھے جو مجھے طعنے مارتے رہے اور میں ان کے طعنوں کے کندھوں پر چڑھ کر آگے بڑھتی رہی‘ مجھے لوگ شروع میں کہتے تھے ’’تم بڑی انگریج بن رہی ہو‘‘ اور میں نے یہ طعنہ سن کر انگریز بننے کا فیصلہ کر لیا‘ پھر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ’’یہ کیا بڑی بات ہے‘ انگریزوں کی نقل ہی تو اتارتی ہے‘‘ میں نے یہ طعنہ سنا تو میں نے انگریزی سیکھ لی۔
پھر کسی نے کہا’’یہ برٹش ایکسنٹ ہے‘امریکی لہجے میں انگریزی بولے تو پھر دیکھیں گے‘‘ اور میں نے نو کے نو لہجے سیکھ لیے‘ پھر کسی نے کہا ’’یہ صرف انگریزی بول سکتی ہے‘‘ تو میں نے یہ سن کر فرنچ‘ اسپینش اور جیپنیز بھی سیکھ لی‘ 
پھر کسی نے کہا ’’لفظ کچھ نہیں ہوتے‘ یہ تو طوطے بھی سیکھ لیتے ہیں‘ اصل چیز وزڈم ہوتی ہے‘ یہ لڑکی وہ کہاں سے لائے گی‘‘ اور میں نے وزڈم بھی حاصل کر لی‘ میں موٹیویشنل اسپیکر بن گئی اور پانچ پانچ سو لوگوں میں کھڑے ہو کر تقریر کرنے لگی چناں چہ لوگ طعنے مارتے رہے اور میں آگے سے آگے بڑھتی رہی یہاں تک کہ میں سوا ارب آبادی کے ملک میں ونڈر گرل بن گئی‘‘۔
جھانوی کا کہنا تھا ’’طعنے دینے والےلوگ‘ آپ کا مذاق اڑانے والے منفی رشتے دار بنیادی طور پر آپ کے ہیلپر ہوتے ہیں‘ آپ اگر ان لوگوں کو پازیٹو لیں‘ آپ اگر ان کی باتوں کو اپنے لیے چیلنج بنا لیں تو پھر آپ زندگی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
الله نے اپ کو جو بھی ٹیلنٹ دیا ہے اس پر کام کریں۔ لوگ طعنہ دیں تو اپنے کام کو اور بڑھا دیں۔ آپ آگے نکل جائیں گے اور طعنہ مارنے والے پیچھے رہ جائیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget