اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

سائیکالوجسٹ

سائیکالوجسٹ: کیسے ہو؟
میں: ٹھیک ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: ذہنی طور پہ کیسے ہو؟
میں: ٹھیک نہیں ہوں میڈم۔۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: معلوم ہوتا تو کیا یہاں بیٹھ کے آپ کے سوالوں کے جواب دے رہا ہوتا؟

سائیکالوجسٹ: کیا محبت کا مسئلہ ہے؟
میں: نہیں، محبتوں کا ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: کتنی بار محبت کی ہے؟
میں: معلوم نہیں ، ابھی بیٹھے بیٹھے آپ کی گفتگو سے بھی محبت کرنے لگا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: پہلی محبت کب ہوئی تھی؟
میں: جب پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔۔

سائیکالوجسٹ: آخری محبت کب ہوئی؟
میں: جب کالج میں تھا۔۔
 

سائیکالوجسٹ: تو پھر دوبارہ محبت کیوں نہیں کی؟
میں: کیونکہ آخری محبت بھلائی نہیں جا رہی ہے۔۔

سائیکالوجسٹ: وہ آخری کیوں تھی؟
میں: کیونکہ اس کے بعد محبت کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔۔

سائیکالوجسٹ: ابھی تو کہہ رہے تھے آپ کی گفتگو سے محبت کر رہا ہوں۔ پھر؟
میں: وقتی ہے دل بہلانے کے لیے یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے آپ کی محبت یہیں چھوڑ جاؤں گا۔

سائیکالوجسٹ: اس کی محبت کو اتنا سوار کیوں کر رکھا ہے؟ ایسا کیا ہے، اس کی محبت میں جو تم کسی اور میں تلاش نہیں کر پا رہے؟
میں: اس کی غزالی آنکھوں کی نمی اور اس کی مہک کے حصار نے کبھی گھیرے سے باہر نکلنے نہیں دیا

سائیکالوجسٹ: آخری بار کب ملے تھے؟
میں: یہاں آنے سے پہلے ہی ملا تھا۔

سائیکالوجسٹ: کہاں؟
میں: آئینے کے سامنے جب بال سنوار رہا تھا۔

سائیکالوجسٹ: وہ ساتھ تھی؟
میں: وہ الگ کب ہوئی؟

سائیکالوجسٹ: الگ کرو گے تو کسی اور سے محبت ہوگی۔۔
میں: آخری محبت ہے کیسے بھولوں؟

سائیکالوجسٹ: تم نے آخری بنا رکھا ہے۔ 
میں: وہ سوار ہے بھلائی نہیں جاتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: کیا چیز بھولنے نہیں دیتی؟
میں: یہ چائے کا کپ جو سامنے پڑا ہے۔ 

سائیکالوجسٹ: ہم اس کی جگہ کافی بھی رکھ سکتے ہیں۔
میں: میڈم یہ آپشن محبت میں نہیں ملا کرتے۔

سائیکالوجسٹ: خوش کب ہوتے ہو؟
میں: جب اکیلا ہوں۔

سائیکالوجسٹ: کیوں؟
میں: کیونکہ تنہائی میں ہی ہماری ملاقات ہوتی ہے۔

سائیکالوجسٹ: دن میں کتنی بار ملاقات ہوتی ہے؟
میں: دن میں اتفاق سے ہوجاتی ہے ورنہ رات میں لازم۔

سائیکالوجسٹ: اور رات میں کب تک؟
میں: جب تک نیند نا آئے۔

سائیکولوجسٹ: نیند کب تک آ جاتی ہے؟
میں: جب تک ملاقات میں ناراضگی نا آ جائے۔۔

سائیکولوجسٹ: ناراضگی سے نیند کا کیا تعلق؟
میں: جب وہ ناراض ہوتی ہے پھر میں اداس ہو کر روتا ہوں اور روتا روتا کب سو جاؤں معلوم نہیں پڑتا۔۔

سائیکالوجسٹ: تو پھر اگلے دن ملاقات کیسے ہوتی جب ناراضگی ہو؟
میں: صبح اٹھتے ہی ہم اک دوسرے کو منا لیتے ہیں۔

سائیکالوجسٹ: کیا وہ بھی اتنا ہی چاہتی ہے؟
میں: یقیناً ورنہ آج بھی ساتھ نا ہوتی۔۔

سائیکالوجسٹ: تم پاگل ہو۔۔
میں: اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں۔۔

سائیکالوجسٹ: تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔۔
میں: پاگل ٹھیک ہوتے ہیں؟

سائیکالوجسٹ: بالکل ہوتے ہیں۔۔
میں: کیا آپ لوگ پاگل نہیں ہوئے کبھی؟

سائیکالوجسٹ: مطلب؟؟
میں: کیا آپ لوگ محبت نہیں کرتے؟

سائیکالوجسٹ: کرتے ہیں۔۔
میں: پھر جب جدائی ملے تب پاگل نہیں ہوتے؟

سائیکالوجسٹ: ہوتے ہیں۔۔
میں: پھر آپ لوگ جب خود پاگل ہو تو ہمارا علاج کیسے کر رہے؟

سائیکالوجسٹ: زوردار قہقہ مار کر ہنسنے لگی 
میں: اب میں جاؤں؟

سائیکالوجسٹ: ہاں جاؤ 

میں اٹھا اور وہ ہنستے ہنستے میز پہ رکھے ٹشو سے آنسو پوچھنے لگی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget