اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

ایک سچی کہانی

ایک سچی کہانی
"آج جب میں نے پاس ہونے والوں کی لسٹ دیکھی، تو پہلی بار اپنی سانس کا بوجھ محسوس ہوا… میرے ساتھ پڑھنے والے سب کے نام تھے، سوائے میرے۔"
یہ جملہ نہیں تھا، یہ ایک ایسا ہتھوڑا تھا جو میرے شیشے جیسے خوابوں پر برسا اور انہیں کرچی کرچی کر گیا۔ پی ڈی ایف (PDF) فائل میں موجود ہزاروں ناموں میں، میں نے اپنی آنکھیں پھاڑ کر اپنا رول نمبر تلاش کیا۔ ایک بار، دو بار، تین بار… مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ اسکرین پر نظر آنے والے دوستوں کے نام مبارکباد کے پیغامات کی طرح چمک رہے تھے، اور میرا نام نہ ہونا ایک خاموش تھپڑ کی طرح میرے وجود پر لگا تھا۔
موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر بستر پر گر گیا۔ کمرے میں وہی پرانی خاموشی تھی، مگر آج یہ خاموشی مجھے کاٹ رہی تھی۔
باہر دسمبر کی دھند اپنے عروج پر تھی۔ کھڑکی کے شیشے دھندلے ہو چکے تھے، بالکل میرے مستقبل کی طرح۔ گلی میں سناٹا تھا، صرف کبھی کبھار کسی گزرنے والی موٹر سائیکل کی آواز یا دور بھونکتے کتے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ کمرے کے اندر ہیٹر بند تھا کیونکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ جاری تھی، اور میرے ہاتھ ٹھنڈ سے نیلے پڑ رہے تھے—یا شاید یہ وہ سردی تھی جو ناکامی میرے خون میں انڈیل دی تھی۔
میں اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے سامنے میز پر کتابوں کا ایک پہاڑ تھا۔ "ورلڈ افیئرز"، "انٹرنیشنل لاء"، "تاریخ پاکستان"… یہ کتابیں جو کل تک مجھے علم کا سمندر لگتی تھیں، آج مجھے کاغذ کا ردّی ڈھیر محسوس ہو رہی تھیں۔ میں نے ایک کتاب اٹھائی اور دیوار پر دے ماری۔
"کیوں؟" میرے حلق سے ایک دبی ہوئی چیخ نکلی۔ "آخر کمی کہاں رہ گئی؟ میں نے تو اپنی نیندیں، اپنی خوشیاں، اپنی جوانی سب کچھ اس امتحان کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔ کیا میں کبھی کامیاب ہو سکوں گا؟ یا میرا مقدر صرف کوشش کرنا ہے، جیتنا نہیں؟"
دروازہ ہلکا سا کھلا۔ امی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا جس سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھیں۔ ماں کو بتانا نہیں پڑتا کہ اولاد کا دل ٹوٹا ہے۔ وہ خاموشی سے اندر آئیں، چائے میز پر رکھی اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ وہ کچھ نہیں بولیں، شاید اس لیے کہ ان کی آواز بھرا گئی تھی۔ وہ باہر تو سب کے سامنے مسکراتی تھیں، کہتی تھیں میرا بیٹا محنت کر رہا ہے، اللہ صلہ دے گا… مگر میں جانتا تھا کہ وہ تہجد میں جب سجدے میں گرتی ہیں تو ان کی ہچکیاں رکتی نہیں ہیں۔ ان کا وہ کانپتا ہوا ہاتھ میرے بالوں میں پھر رہا تھا اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں نے ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے کی بجائے ان کے کندھوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔
شام کو بابا گھر آئے۔ تھکے ہوئے، گرد آلود چہرے کے ساتھ۔ وہ سارا دن لوگوں کی باتیں سنتے ہیں، دفتر میں افسروں کی جھڑکیاں سہتے ہیں، صرف اس امید پر کہ ایک دن ان کا بیٹا افسر بنے گا۔ وہ میرے کمرے میں نہیں آئے۔ وہ صحن میں ہی بیٹھ گئے۔ میں نے پردے کی اوٹ سے دیکھا، وہ اپنی عینک صاف کر رہے تھے اور بار بار اپنی آنکھیں رگڑ رہے تھے۔ وہ رو نہیں رہے تھے، مرد روتے نہیں ہیں، وہ بس اندر سے گر رہے تھے۔ ان کی وہ خاموش شکستگی میرے لیے میری اپنی ناکامی سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔
میں نے دوبارہ اپنی میز کی طرف دیکھا۔ ان نوٹس کی طرف جو میں نے سال بھر بنائے تھے۔ دل کیا کہ سب کچھ آگ لگا دوں۔ یہ سفر بہت ظالم تھا۔ یہ صرف کتابوں کا امتحان نہیں تھا، یہ اعصاب کا امتحان تھا۔ یہ یہ دیکھنے کا امتحان تھا کہ آپ کتنی بار گر کر اٹھ سکتے ہیں۔
اسی بے بسی کے عالم میں، میں نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا۔ اسکرین پر بے مقصد کلک کرتے ہوئے میری نظر ایک پرانی ای میل یا شاید ایک نوٹیفکیشن پر پڑی۔ یہ MOCC-Online Competitive Exams Academy کی طرف سے بھیجی گئی ایک گائیڈ لائن تھی۔ اس میں کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں تھی، بس ایک جملہ نمایاں تھا جس نے مجھے روک لیا:
"ناکامی اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ نااہل ہیں، بلکہ یہ اشارہ ہے کہ آپ کی تیاری میں کوئی ایسا خلا ہے جسے صرف آپ پُر کر سکتے ہیں۔ جذبات سے نہیں، حکمت عملی سے لڑیں۔"
یہ جملہ میرے ذہن میں روشنی کی ایک لکیر بن گیا۔ میں جذباتی ہو رہا تھا۔ میں خود کو کوس رہا تھا۔ لیکن میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ "غلطی" کہاں ہوئی ہے۔
میں نے آنسو پونچھے۔ ایک لمبی، گہری سانس لی۔ میز پر بکھری ہوئی کتابوں کو سمیٹا۔ میں نے اپنے پچھلے پیپرز کے رف (Rough) ڈرافٹس نکالے۔ میں نے اپنی ہی لکھی ہوئی تحریروں کو ایک نقاد (Critic) کی نظر سے پڑھنا شروع کیا۔
اور تب مجھے نظر آیا۔
میری تحریر میں علم تو تھا، مگر ربط نہیں تھا۔ میرے دلائل میں جوش تو تھا، مگر ٹھوس شواہد نہیں تھے۔ میں نے اپنی کمزوریاں تسلیم کرنا شروع کیں۔ یہ سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ خود کو یہ ماننا کہ "میں غلط تھا"۔
میں نے ایک ڈائری اٹھائی اور لکھنا شروع کیا:
— انگلش ایسے (Essay) میں میرا ڈھانچہ کمزور تھا۔
— کرنٹ افیئرز میں میرا تجزیہ سطحی تھا۔
— میں نے سوال کو سمجھنے کی بجائے وہ لکھا جو میں نے رٹا ہوا تھا۔
یہ رات میری زندگی کی سب سے لمبی رات تھی، مگر یہ وہ رات تھی جب میں نے ماتم کرنا چھوڑ دیا اور جنگ کی تیاری شروع کی۔
پھر وقت بدلنے لگا۔ دسمبر کی دھند چھٹنے لگی، مارچ کی ہوائیں چلیں، اور پھر جولائی کی تپتی ہوئی دوپہریں آئیں۔
میرا کمرہ اب قید خانہ نہیں، تربیت گاہ بن چکا تھا۔ میرے دوست کرکٹ کھیلنے جاتے، میں لائبریری کے کونے میں بیٹھا رہتا۔ رشتے داروں کی شادیوں کے کارڈ آتے، میں معذرت کر لیتا۔ لوگ کہتے "یہ لڑکا پاگل ہو گیا ہے"، "نفسیاتی ہو گیا ہے"۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ جس عمارت کی بنیاد گہری کھودی جا رہی ہو، اسے بننے میں وقت لگتا ہے۔
اب میں پڑھ نہیں رہا تھا، میں سیکھ رہا تھا۔ میں نے ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جڑنے کا فن سیکھ لیا تھا۔ جب گرمی میں پسینہ کتابوں پر ٹپکتا، تو میں اسے اپنی محنت کی سیاہی سمجھتا۔ جب تھک کر آنکھیں بند ہونے لگتیں، تو مجھے بابا کا جھکا ہوا سر اور ماں کا لرزتا ہوا ہاتھ یاد آ جاتا، اور میں منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر دوبارہ بیٹھ جاتا۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ دنیا میرے ساتھ نہیں ہے، کوئی میرے حق میں نعرے نہیں لگا رہا، مگر میرا ایمان اور میری محنت میرا سب سے بڑا لشکر ہے۔
یہ سفر تنہائی کا تھا، اور میں نے اس تنہائی سے محبت کر لی تھی۔
پھر… ایک اور سال گزر گیا۔
پھر سے رزلٹ کا دن آیا۔
موسم پھر بدل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا۔ میں اسی کمرے میں تھا، اسی میز کے سامنے۔ لیکن اس بار خوف نہیں تھا، ایک عجیب سا سکون تھا۔ جیسے سمندر طوفان کے بعد پرسکون ہو جاتا ہے۔ میں نے لیپ ٹاپ کھولا۔ ویب سائٹ لوڈ ہونے میں وقت لگا رہی تھی۔ دل کی دھڑکن پسلیوں سے ٹکرا رہی تھی، مگر ہاتھوں میں وہ پرانی کپکپاہٹ نہیں تھی۔
فائل کھلی۔
میں نے سرچ بار میں اپنا رول نمبر لکھا۔
"Enter" کا بٹن دبایا۔
ایک سیکنڈ… دو سیکنڈ… اور پھر اسکرین پر میرا نام ابھرا۔
اس بار میرا نام پاس ہونے والوں کی لسٹ میں نہیں تھا…
میرا نام "Allocated Candidates" (منتخب شدہ امیدواروں) کی لسٹ میں چمک رہا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ کمرے کی فضا ساکت ہو گئی۔ مجھے یقین نہیں آیا۔ میں نے دوبارہ دیکھا۔ ہاں، وہ میرا ہی نام تھا۔ وہ میرا ہی رول نمبر تھا۔
میں کرسی سے اٹھا۔ میرے پاؤں میں جان نہیں تھی۔ میں لڑکھڑاتا ہوا کمرے سے باہر نکلا۔
صحن میں امی جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھیں۔ بابا چارپائی پر بیٹھے ریڈیو سن رہے تھے، مگر ان کا دھیان کہیں اور تھا۔
میں ان کے قریب گیا۔ میرا گلا رندھا ہوا تھا۔ میں کچھ بولنا چاہتا تھا مگر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ میں نے بس اتنا کیا کہ اپنا موبائل بابا کے ہاتھ میں دے دیا۔
بابا نے عینک درست کی، اسکرین پر دیکھا۔ ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ انہوں نے مجھے دیکھا، پھر موبائل دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے انہیں سمجھ نہیں آیا۔ پھر ان کے ہونٹ کپکپائے۔
"بیٹا…؟" ان کی آواز میں سوال بھی تھا اور یقین کی انتہا بھی۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
بابا نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ وہ مضبوط باپ، جو کبھی نہیں رویا تھا، آج میرے کندھے پر سر رکھ کر بچے کی طرح رو پڑا۔ ان کے آنسو میری قمیض بھگو رہے تھے اور وہ آنسو میرے لیے دنیا کے کسی بھی میڈل سے زیادہ قیمتی تھے۔
امی نے یہ منظر دیکھا تو وہ جائے نماز پر ہی سجدے میں گر گئیں۔ ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا، بس "الحمداللہ" کی سسکیاں تھیں۔
اس لمحے، گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر، میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ دسمبر کی سرد ہوا میرے چہرے کو چھو رہی تھی، مگر اب یہ ہوا مجھے کاٹ نہیں رہی تھی، مجھے تھپکی دے رہی تھی۔ وہ تمام راتیں، وہ تمام طعنے، وہ بھوک، وہ پیاس، وہ تنہائی… سب وصول ہو گیا تھا۔
میں نے اپنی مٹھی بند کی، اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور خود کو وہ بات کہی جو اب میری زندگی کا حاصل تھی:
"میرے خواب بکھرے تھے… مگر میں نہیں بکھرا۔"

تحریر: پروفیسر رانا مبشر رضا

پریشان اور نا امید ہیں ؟ گھبرائیں نہیں اٹھیں اپنی کرچیاں سمیٹیں۔ اگلی لسٹ میں ایک نام آپ کا انتظار کر رہا ہے، بشرطیکہ آپ میدان نہ چھوڑیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget