اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

فیصل آباد،کلاک ٹاور کی تاریخ اور تعمیر

فیصل آباد،کلاک ٹاور کی تاریخ اور تعمیر:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تعمیر کا دور:
کلاک ٹاور کی تعمیر 1903 میں مکمل ہوئی۔ اس کا سنگ بنیاد 1897 میں رکھا گیا، یعنی اس کی تعمیر میں تقریباً 6 سال لگے۔
تعمیر کروانے والا:
اس کی تعمیر برطانوی حکومت کے تحت ہوئی، اور اسے سر جیمز لائل کے دور میں تعمیر کیا گیا، جو کہ اس وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے۔ لائلپور کا نام بھی انہی کے نام پر رکھا گیا تھا۔
ڈیزائن:
ڈیزائن کی منصوبہ بندی برطانوی ماہرین نے کی، اور یہ مشہور ہے کہ اس کا نقشہ یونین جیک (برطانوی پرچم) کی طرز پر بنایا گیا۔ کلاک ٹاور کے اردگرد آٹھ بازار (کچہری، چنیوٹ، جھنگ، کارخانہ، منٹگمری، بھوانہ، امین پور،  بازار) اس انداز میں ترتیب دیے گئے کہ وہ یونین جیک کی لکیروں کی مانند لگتے ہیں۔
فنڈنگ:
گھنٹہ گھر کی تعمیر کے لیے مقامی لوگوں نے چندہ دیا تھا، اور کچھ رقم ریاستی فنڈز سے آئی۔
ۤگھڑیاں، کلر اسکیم اور ساخت:
گھڑیاں کس نے بنائیں؟
اس میں نصب شدہ گھڑیاں انگلینڈ سے منگوائی گئیں۔ ممکنہ طور پر گھڑیاں Smith of Derby جیسی کسی برطانوی گھڑی ساز کمپنی کی بنی ہوئی تھیں (جیسے کئی دیگر برٹش دور کے گھڑیالوں میں دیکھنے کو ملتا ہے)، مگر اس کی تصدیق شدہ تفصیل تاریخ میں مبہم ہے۔
کلر اسکیم:
اصل میں کلاک ٹاور سرخ اینٹوں (لال اینٹوں) سے بنایا گیا تھا، جس میں سفید اور ہلکے خاکی پتھروں کی جھلک شامل تھی۔ وقت کے ساتھ اس پر کئی بار رنگ و روغن اور مرمت ہوئی، مگر اصل کلر اسکیم برٹش آرکیٹیکچر کے اصولوں پر تھی۔ حالیہ رنگ اسکیم کو شہری حکومت نے جدید ذوق کے مطابق کئی بار بدلا۔
 ساخت (Dimensions):
اونچائی (Height): تقریباً 100 فٹ (30 میٹر)

چوڑائی (Base Width): تقریباً 20 فٹ (6 میٹر)
یہ ایک چوکور مینار ہے جس کی ہر سمت ایک بازار کو جاتا ہے۔

 آئندہ مستقبل:
کب تک قائم رہے گا؟
کلاک ٹاور کو اب ایک تاریخی یادگار اور ثقافتی ورثہ کے طور پر محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اگر اس کی دیکھ بھال جاری رہی، تو یہ آنے والی کئی دہائیوں تک اپنی جگہ برقرار رہ سکتا ہے۔ فیصل آباد میونسپل کارپوریشن اور پنجاب حکومت نے اسے "پریزرویشن زون" قرار دیا ہے تاکہ یہ تاریخی ورثہ محفوظ رہے۔
 مزید دلچسپ معلومات:
کلاک ٹاور کے اردگرد موجود آٹھ بازار آج بھی فیصل آباد کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کہلاتے ہیں۔ یہ شہر کا قدیم ترین تجارتی مرکز ہے۔

برطانوی راج کے دور میں لائلپور کو "گریڈڈ شہر" کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا — یعنی زرعی زمینوں کے درمیان ایک منصوبہ بند شہر۔

گھنٹہ گھر کے گرد برطانوی دور کی واٹر سپلائی لائنز اور ڈرینج سسٹم بھی موجود تھا، جو اُس وقت کے جدید ترین نظاموں میں سے ایک تھا۔

کچھ حوالوں کے مطابق گھنٹہ گھر کی اوپری منزل میں کبھی برطانوی حکام کی نگرانی کے لیے ایک چبوترہ بھی تھا، جہاں سے شہر کے بازاروں کی نگرانی کی جاتی تھی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget