خالد بن ولید
کا دو ٹوک الفاظ کا خط۔۔۔
''ہتھیار ڈال دو سڑنڈر کر دو ورنہ میں ایسی فوج لیکر آؤں گا کہ جتنا تمہیں اور تمہاری فوج کو اپنی زندگی سے پیار ہے، اتنا مجھے اور میری فوج کو اپنی موت سے پیار ہے''
پھر سرنڈر کے بجائے لڑنے کا نتیجہ کیا نکلا۔۔۔۔!
دنیا کی دو سپر پاورز کو عرب کے ایک کمانڈر نے نیست و نابوت کر دیا۔
دنیا کی تاریح میں ایسا کوئی جنگی کمانڈر نہیں گزرا جس نے سینکڑوں لڑائیاں لڑی ہوں مگر کبھی ہارا نہ ہو حتی کہ سکندر اعظم، چنگیز خان، جولیس سیزر، نپولین بونا پارٹ بھی کئی مقامات پر لڑائیاں ہارے ہوئے ہیں مگر واحد انسانی تاریح میں خالد ہی ایسا جنرل کمانڈر معلوم پڑتا ھے جو کبھی کوئی لڑائی ہارا نہ ہو۔
خالد بن ولید کے بارے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا و اجمعین فرماتے تھے۔۔۔
مائیں ایسے بچے روز روز جنا (پیدا) نہیں کرتی۔
خالد ابن الولید کا قول تھا۔۔۔!
''اگر موت میدانِ جنگ میں لکھی ہوتی تو خالد کبھی بستر پر نہ مرتا''
کیونکہ انکی اپنی ساری زندگی میدان جنگ میں موت کا سامنا کرتے گزر گئی مگر موت آخر کار انہیں بستر پر آئی میدان جنگ میں نہیں۔
خالد ابن الولید کا ایک اور قول تھا۔۔۔!
''بزدلوں کو کبھی نیند نہ آۓ''
مطلب بزدل ہونا اور حالات کا سامنا کرنے سے گھبرا جانا تو انسان ہونے کا بھی ایک نیچ ترین درجہ ہے۔
سلام ہو سیف اللہ سیدنا خالد ابن الولید رضی اللہ عنہا واجمعین پر۔
ایک تبصرہ شائع کریں