اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

کچھ اپنے نظریات

پہلی بات تو یہ کہ انسان کو کسی سے بھی نفرت نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر وہ پھر بھی کسی چیز سے پیار نہیں کرنا چاہتا تو اسے چاہیے کہ وہ اس شخص یا جاندار چیز سے نفرت نہ کرے۔ مثال سے سمجھاتا ہوں فرض کریں کوئی لڑکی جو آپ کے آفس میں کام کرتی ہے لیکن وہ آپ کو پسند نہیں آتی یا آپ چاہتے ہیں کہ اس سے آپ کی ہیلو ہائے نہ ہی ہو تو سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس سے بات کم کریں ۔ کبھی بھی بات کرنے میں پہل نہ کریں۔ اگر کبھی وہ آپ سے بات کرے تو میں یہ بالکل بھی نہیں کہوں گا کہ آپ اس کی بات کو سنیں ہی نہ بلکہ اس کا آسان حل یہ ہے کہ آپ اس کی بات سنیں لیکن بہت مختصر جواب دیں۔ سوال کا جواب اتنا ہی دیں جتنا سوال پوچھا گیا ہے غیر ضروری جواب سے پرہیز کریں۔ اس طرح زیادہ ممکن ہے کہ وہ آپ سے بات نہیں کرے گی کیونکہ اسے سمجھ نہیں آئے گی کہ وہ بات کیا کرے؟ 
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف بات ہو رہی تھی کہ آپ اس سے نفرت نہ کریں کیونکہ جب آپ کسی سے نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں تو اس کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب ہم کسی کو بغیر جانے اس سے نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں تو بعد میں جا کر  وہی ہمارا سب سے اچھا دوست بن جاتا ہے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان بڑا لالچی ہے۔ اس کا لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا اس کے پاس جتنا پیسہ آتا جاتا ہے اس کا لالچ مزید بڑھتا جاتا ہے۔ جیسے جیسے اس کے پاس پیسہ آتا ہے وہ اپنا ماضی بھولنا شروع ہو جاتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ پہلے کیا تھا اور اب کیا بنتا جا رہا ہے؟  اس کی ہوس بڑھتی جاتی ہے وہ سوچنا شروع ہو جاتا ہے کہ اگر وہ پیسہ غریبوں کی مدد کے لیے یا پھر کسی اور اچھے کام کے لیے خرچ کرے گا تو کم ہو جائے گا۔ وہ ہر بات میں پیسے کا حساب کرنا شروع کر دیتا ہے اسی وجہ سے وہ کنجوس بن جاتا ہے اور اپنی اولاد اور رشتے داروں پر بھی خرچ کرنا گوارا نہیں کرتا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سب لوگ ہم سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں اور ہمارا بڑھاپا دوسروں کا محتاج بن جاتا ہے۔ اس لیے میرے خیال سے پیسے کو گننا نہیں چاہیے ۔ کسی بابا جی نے کیا خوب کہا ہے کہ 
جو مانگ لے اسے دے دو۔ جو بھول جائے اسے بھول جاؤ۔ 
اگر ہم اسی اصول کو لے کر چلیں گے تو سچ میں ہمیں کسی کی مدد کرنے میں یہ نہیں لگے گا کہ ہمارے پیسے خرچ ہوگئے۔بلکہ ہمیں دوسروں کی مدد کر کے خوشی ہوگی۔ ایسی خوشی جو شاید ہی کبھی ہمیں محسوس ہوئی ہو۔اس لیے ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے کے لیے تیار رہیں۔ دل کو چھوٹا مت کریں۔ جب ہمارے پاس کسی چیز کی کمی ہونے لگے تو اس چیز کو بانٹنا شروع کر دو یقین مانیں اس چیز کی کمی دور ہوجائے گی۔ اللہ مجھے اور آپ کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget