ماں
اس دنیا کی سب سے قیمتی اور پیاری چیز
ہر جاندار کو خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ
انسان کو مرنے کے بعد اس کے اچھے اعمال کے سبب اللہ کی طرف سے جو انعام ملے گا وہ ہو گی جنت۔۔۔
جنت جہاں دودھ کی نہریں، شہد کی ندیاں، پھلوں سے لدھے ہوئے درخت، گردو غبار سے پاک ماحول اور نہ ختم ہونے والی زندگی، یہ سب کچھ جنت میں ہوگا۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی جنت میں۔ انسان جس چیز کی خواہش کرے گا وہ اس کے پاس ہوگی۔ ہر طرف سے خوشبو آئے گی۔ صاف ستھرا ماحول ہوگا۔ یہ سب اس کے لیے ہو گا جو اس زندگی میں اچھے اعمال کرے گا۔ کتنی عجیب بات ہے نہ اتنا سب کچھ ہوگا جنت میں اور اتنی انمول چیز جسے ہم جنت کہتے ہیں اس رب تعالی نے ماں کے قدموں تلے رکھ دی اب یہ ہم پر ہے کہ ہم جنت کے حصول کے لیے کتنی تگ و دو کرتے ہیں۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھنے کا بھی کوٸ مقصد تو ضرور ہوگا شاید اللہ تعالی ہمیں یہ بتانا چاہتا ہو کہ جنت جس ہستی کے قدموں تلے رکھی ہے وہ جنت سے افضل ہے۔ اسی لیے تو کسی نے کہا ہے کہ ماں کی دعا جنت کی ہوا۔
ایک آدمی سفر پے اپی ماں کے ہمراہ جا رہا تھا کہ رستے میں اسے کچھ لوگ جمع ہوۓ نظر آتے ہیں وہ کافی پریشان ہوتے ہیں وہ آدمی ان لوگوں سے ان کی پریشانی کی وجہ دریافت کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ گاؤں میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی ہے۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ اگر آپ لوگ کہیں تو میں بارش کروا دوں۔ وہ لوگ کافی حیران ہوتے ہیں کہ آخر یہ کون ولی اللہ ہے جو بارش کروا دے گا خیر وہ اسے بارش کروانے کو کہتے ہیں اندھا کیا چاہیں دو آنکھیں
وہ اپنی سواری کے پاس جاتا ہے جس پر اس کی ماں بیٹھی ہوتی ہے اپنی ماں کا دوپٹہ پکڑ کر دعا کرتا ہے کہ اے اللہ یہ وہ ماں ہے جس نے کبھی تیری نافرمانی نہیں کی اس نے مجھے ہمیشہ حلال کھلایا یااللہ اس ماں کے صدقے بارش برسا دے وہ دعا کر کے چلا جاتا ہے کہ تھوڑی دیر بعد ہی بادل چھاتے ہیں اور بارش شروع ہو جاتی ہے یہ ہے ماں کا درجہ جس کے طفیل اللہ تعالی نے بارش برسا دی۔
اس طرح وہ میرے گناہوں کو دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہو تو رو دیتی ہے
بلندیوں کا بڑے سے بڑا نشان چھوا
اٹھایا گود میں ماں نے تب آسمان چھوا
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئ دکاں آئ
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئ
بلندی دیر تک کس شخص کے حصے میں رہتی ہے
بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی ہے
بہت جی چاہتا ہے قید جہاں سے ہم نکل جائیں
تمہاری یاد بھی لیکن اسی ملبے میں رہتی ہے
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے
میری خواہش ہے کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤں
ماں سے اس لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں
کم سے کم بچوں کے ہونٹوں کی ہنسی کی خاطر
ایسی مٹی میں ملانا کہ کھلونا ہو جاؤں
مجھ کو ہر حال میں بخشے گا اجالا اپنا
چاند رشتے میں نہیں لگتا ماما اپنا
میں نے روتے ہوۓ پونچھے تھے کسی دن آنسو
مدتوں ماں نے نہیں دھویا ڈوپٹہ اپنا
عمر بھر خالی یوں ہی ہم نے مکاں رہنے دیا
تم گۓ تو دوسرے کو کل یہاں رہنے دیا
میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا شبد ماں رہنے دیا
مختصر ہوتے ہوۓ بھی زندگی بڑھ جاۓ گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجۓ روشنی بڑھ جاۓ گی
یوں تو اب اسکو سجھائ نہیں دیتا لیکن
ماں ابھی تک میرے چہرے کو پڑھا کرتی ہے
ماں کی سب خوبیاں بیٹی میں چلی آئ ہیں
میں تو سو جاتا ہوں وہ جگا کرتی ہے
دکھ ملا سکتی ہے لیکن جنوری اچھی لگی
جس طرح بچوں کو جلتی پھلجھڑی اچھی لگی
رو رہے تھے سب تو میں بھی پھوٹ کر رونے لگا
ورنہ مجھ کو بیٹیوں کی رخصتی اچھی لگی
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی
بھٹکتی ہے حوس دن رات سونے کی دوکانوں میں
غریبی کان چھدواتی ہے تنکہ ڈال دیتی ہے
بچھڑ کر بھی محبت کے زمانے یاد رہتے ہیں
اجڑ جاتی ہے محفل مگر چہرے یاد رہتے ہیں
شگفتہ لوگ بھی ٹوٹے ہوتے ہیں اندر سے
بہت روتے ہیں جن کو لطیفے یاد رہتے ہیں
خدا نے یہ صفت دنیا کی ہر عورت کو بخشی ہے
کہ وہ پاگل بھی ہو جاۓ تو بیٹے یاد رہتے ہیں
لپٹ جاتا ہوں ماں سے تو موسی مسکراتی ہے
میں اردو میں غزل کہتا ہوں تو ہندی مسکراتی ہے
اچلتے کودتے بچپن میں بیٹا ڈھونڈتی ہوگی
تبھی تو دیکھ کر پوتے کو دادی مسکراتی ہے
(to be continued...)
ایک تبصرہ شائع کریں