اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

انسانی زندگی کے چار مراحل

انسانی زندگی کے چار مراحل

پہلا مرحلہ: ماں کا پیٹ ہوتا ہے جس میں وہ نو مہینے گزارتا ہے۔ باہر کی دنیا سے بے خبر جس میں نہ کوئی محنت ہوتی ہے نہ مشقت، جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ الزمر آیت نمبر5  میں یوں بیان فرمایا ہے :

’’وہی اللہ ہے جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر بناتا رہتا ہے تین اندھیروں میں ‘‘

(رحم کی اندھیری، اس کے اوپر کی جھلی کی اندھیری، پیٹ کی اندھیری )

دوسرا مرحلہ: جب انسان ماں کے پیٹ سے باہر کی دنیا میں آتا ہے تو ہر چیز اس کو نئی اور عجیب لگتی ہے، پہلے بچہ ہوتا ہے، پھر جوانی کی عمر کو پہنچتا ہے، پھر اللہ اس کو طاقت و قوت دیتا ہے، محنت کرنے لگتا ہے، انسانی زندگی کا یہ دوسرا مرحلہ امتحان کا مرحلہ ہے۔ اگرانسان نیک اور متقی ہو تو جنت کا راستہ چنتا ہے اور اگر کافر و گنہگار ہو تو جہنم کا راستہ اختیار کرتا ہے اور اس جیسے عمل کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ اس کو موت آ جاتی ہے۔

تیسرا مرحلہ:موت کے بعد شروع ہوتا ہے، اس مرحلۂ زندگی کا نام ’’برزخ‘‘ ہے، یہ مرحلہ قیامت کے قائم ہونے تک جاری رہے گا۔

چوتھا اور آخری مرحلہ: قیامت کے قائم ہونے کے ساتھ ہی انسان ایک اور مرحلۂ زندگی میں داخل ہوتا ہے، یہ انسانی زندگی کا آخری مرحلہ اور آخری پڑا ؤ ہے، اس مرحلۂ زندگی کو حیات اخروی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

میں نے سوچا کہ انسانی زندگی کے تیسرے مرحلہ میں جو حالات اور معاملات انسان کے ساتھ پیش آنے والے ہیں پھر قیامت کے حالات اور جنت اور دوزخ کا جو بھی فیصلہ کیا جانے والا ہے، اس بارے میں لوگوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں آگاہ کرنے کی کوشش کروں تاکہ وہ اس دن کی ہولناکیوں اور گھبراہٹوں سے بچنے کی پوری پوری تیاری شروع کر دیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عذاب قبر سے اور قیامت کی گھبراہٹوں سے بچائے، اور قیامت کے دن اپنے خاص سایہ میں جگہ نصیب فرمائے۔ اور اس کو میرے لیے ثواب جاریہ بنائے .آمین.اور آپ بھی اپنے عزیز دوستوں رشتے داروں کو بھیج کر شامل ہو جائیں۔

وصلی اللہ علی رسولنا وحبیبنا محمدﷺ وعلی الہ وصحبہ واتباعا والحمدللہ رب العالمین۔

٭٭٭
قبر کا بیان

روح کا جسم سے نکلنا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جب کوئی مؤمن بندہ مر جاتا ہے تو دو نورانی چہرے والے فرشتے اس کے آگے آتے ہیں اور ان فرشتوں کے ساتھ ایک خوشبودار کپڑا ہوتا ہے جس سے مشک کی خوشبو آتی ہے۔ وہ اس مؤمن کی روح کو اس کپڑے میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس روح کو خوشخبری سناتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ’’اے پاک روح نکل اس پاک جسم سے۔ اور چل جنت کے باغات اور جنت کی ٹھنڈی ہواؤں کی طرف، پھر وہ فرشتے اس روح کو آسمان کی طرف لے کر چڑھتے ہیں، آسمان والے کہتے ہیں (یعنی فرشتے ) کوئی پاک روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمت کرے۔ اور تیرے بدن پر جس کو تو نے آباد رکھا۔ پھر وہ فرشتے اس روح کو پروردگار کے پاس لے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اس روح کو لے جاؤ اپنے مقام میں یعنی علیین میں (جہاں مؤمنوں کی ارواح رہتی ہیں ) قیامت ہونے تک (وہیں رکھو)۔

اسی طرح جب کسی کافر کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے بدصورت اور ڈراؤنی چہرہ والے آتے ہیں اور ان فرشتوں کے ساتھ گندہ اور بدبو دار ٹاٹ ہوتا ہے، وہ اس کافر کی روح کو اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور لعنت بھیجتے ہوئے اس روح کو خبر سناتے ہیں۔ اے ناپاک روح نکل ناپاک جسم سے، چل جہنم کی طرف اور گرم کھولتے ہوئے پانی اور جہنم کی گرم ہواؤں کی طرف۔ رب کی ناراضگی کے ساتھ، پھر اس روح کو لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں آسمان والے (فرشتے ) کہتے ہیں کوئی ناپاک روح جو زمین کی طرف سے آئی ہے۔ پھر حکم ہوتا ہے اس کو لے جاؤ اس کے مقام میں یعنی سجین میں (جہاں کافروں کی روحیں رہتی ہیں ) قیامت قائم ہونے تک۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپﷺ نے ایک باریک کپڑا جو آپ اوڑھے ہوئے تھے اپنی ناک پر ڈالا (جب کافر کی روح کا ذکر کیا اس کی بدبو بیان کرنے کے لیے ) اس طرح سے۔ (صحیح مسلم :7221، ابن ماجہ (2 /3437)

قبر

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی مر جاتا ہے تو ہر صبح و شام اسے اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اگر وہ جنتی ہے تو جنت میں اور اگر جہنمی ہے تو جہنم میں، اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا مقام ہے جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تجھے اٹھائے گا۔ (صحیح بخاری:694)

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب بھی قبر دیکھتے تھے تو روتے تھے، لوگوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ جب آپ کے سامنے جنت اور جہنم کا ذکر ہوتا ہے تو اتنا نہیں روتے جتنا قبر کا ذکر ہوتا ہے تو روتے ہیں ؟ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپﷺ سے یہ فرماتے سنا کہ قبر پہلی منزل ہے۔ اگر اس میں کامیاب ہوئے تو آنے والے مرحلہ میں بھی کامیابی ہو گی۔ اور اگر اس میں کامیابی اور نجات نہیں ملی تو پھر آنے والا مرحلہ اور بھی مشکل ہو گا اور میں نے آپﷺ سے یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں قبر سے زیادہ خوفناک منظر والی چیز نہیں دیکھی۔ (ترمذی :2398، ابن ماجہ( 4567 ) شیخ البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (صحیح الجامع: 1684) میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے :

اللھم انی اعوذ بک من عذاب القبر  و من عذاب النار و من فتنۃ المحیای و  الممات و من فتنۃ المسیح الدجال

’’اے اللہ، میں عذاب قبر، عذاب جہنم، زندگی اور موت کی خرابی اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں‘‘ (صحیح بخاری)

میرے بھائیو اور بہنو!

بہت جلد ہم سب اس جگہ جانے والے ہیں اس زندگی کے عیش و آرام کو چھوڑ کر قبر کے گڑھے میں اترنے والے ہیں، ہر ایک کو جانا ہے اگرچہ وہ چاہے یا نہ چاہے۔ اب ہم خود ہی اپنا محاسبہ کر یں کہ ہم اس جگہ کے لیے کتنی تیاری کر رہے ہیں۔ اور اس چند دن کی زندگی کے لیے کیا گیا آرزوئیں کیے ہوئے ہیں۔“

لیبلز:

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget