اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

پارس پتھر

پارس پتھر

ایک آدمی کافی عرصہ تک ایک درویش کی خدمت میں رہا۔ایک دفعہ درویش نے اس سے پوچھا کہ تیری کوئی خواہش ہو تو بتا دے۔ اس آدمی نے کہا کہ ؛ سرکار مجھے پارس پتھر عنائت فرما دیں ۔
وہ درویش اسے ایک سمندر کے کنارے لےگیا ۔ جہاں کنکریوں کے ڈھیر پڑے تھے۔ اس درویش نے اسے لوہے کی ایک انگوٹھی پہنا دی اور کہا کہ اس کنکریوں کے ڈھیر کے پاس بیٹھ جا , ایک ایک کنکری کو اپنی انگوٹھی سے مس کرکے دیکھ جس کنکر کے لگنے سے انگوٹھی سونا بن جائے وہی پارس پتھر ہے۔ پارس پتھر کی یہ تاثیر ہوتی ہے کہ لوہے کے ساتھ لگنے سے وہ لوہے کو سونا بنا دیتا ہے،
پس پھر کیا ہوا کہ وہ آدمی ان کنکریوں کے ڈھیر کے پاس بیٹھ گیا۔ شروع شروع میں اس کی عادت ایسی تھی کہ ایک کنکری اٹھاتا۔ اسے انگوٹھی کے ساتھ لگاتا، دیکھتا کہ انگوتھی سونا بنی کہ نہیں پھر اس کنکری کو سمندر میں پھینک دیتا اور دوسری کنکری اٹھا لیتا۔
آہستہ آہستہ وقت گزرتا گیا اور یہ عمل اس کی عادت بن گیا وہ جلدی جلدی کنکری انگوٹھی سے لگاتا اور سمندر میں پھینک دیتا۔
کنکری اٹھاتا۔ انگوٹھی سے لگاتا اور سمندر میں پھینکتا رہا اور انگوٹھی کی طرف سے توجہ ہٹا لی۔ جب ساری کنکریاں سمندر میں پھینک چکا تو اپنی انگوٹھی کو دیکھا تو وہ سونے کی بن چکی تھی۔۔۔۔ بہت ہی پشیمان ہوا کہ میں نے بے خیالی میں پارس پتھر اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینک دیا۔۔۔۔۔ !!  اکثر اوقات ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں کہ نماز کو اپنی عادت تو بنا لیتے ہیں۔ لیکن بے خیالی میں پارس پتھر کے خالق کو اپنے قریب ہوتے ہوئے بھی فراموش کر دیتے ہیں۔
نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ ''الصلوۃ معراج المومنین '' نماز مومن کی معراج ہے۔ یعنی الله پاک سے ملاقات ہے۔۔۔۔۔ ایک دوسرے موقع پہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ ''صلو لما رائیتمونی صلیٰ ''نماز ایسے پڑھ جیسے مجھے نماز پڑھتا ہوا دیکھتا ہے۔ الله پاک فرماتا ہے کہ میرے اور نمازی کے درمیان کوئی حجاب نہیں رہتا ۔۔۔۔
کتنی خاص عبادت ہے الله سوہنا بھی بغیر حجاب کے پاس ہوتا ہے اور سوہنا نبی ﷺ بھی قریب جاں۔۔۔۔۔ اور ہمارا خیال کہاں کہاں بھٹکتا رہتا ہے۔ حقیقت ہے نماز شروع کرتے ہی ہم خیالی اڑان لیتے ہیں اور دنیا جہان کے سیر سپاٹے کر کے نماز ختم ہونے پہ ہی واپس لوٹتے ہیں۔ اور اس طرح ہم روز اپنے ہاتھوں سے پارس پتھر سمندر میں پھینکتے جاتے ہیں۔ احساس ِ قربت تو سوچوں کو یکسوئی عطا کرتا ہے۔ قران پاک میں الله پاک کا اٹل فیصلہ ہے کہ "ان الصلوۃ تنہا عن الفحشاء والمنکر '' ترجمہ ۔ بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے بچاتی ہے ۔ ۔ ۔ اب ہم دیکھیں تو نماز بھی جاری ہے اور بے حیائی بھی ۔ نمازی ۔ بے حیائی، برائی، جھوٹ، دھوکہ ۔ تک کرتے نظر آئیں گے ۔۔  یہی وجہ ہے کہ ہم نے نماز کو اپنی عادت تو بنا لیا لیکن شوق ختم کر لیا ۔ اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ عبادت کو اپنی عادت نہ بناؤ بلکہ اپنی عادتوں کو عبادت بنا لو ۔خیال یار کے بغیر عبادت شوق سے محروم کر دیتی ہے ۔
نماز مومن کی معراج ہے اور اس معراج کو سرسری طور پہ نہ لیں۔۔۔۔۔پس اس معراج میں انگوٹھی (خیال یار) کی طرف دھیان رہے گا پارس پتھر حاصل ہو جائے گا اور پھر وہ پارس پتھر آپ کی زندگی کا ہر لمحہ خیال یار میں مستغرق کر دے گا۔۔۔۔۔ !!!

لیبلز:

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget