پانچ چیزوں سے پانچ چیزوں کی پہچان ہوتی ہے:
۱- درخت کی پہچان پھل سے،
۲- بیوی کی پہچان شوہر کی تنگ دستی میں،
۳- شوہر کی پہچان بیوی کی بیماری میں،
۴- دوست کی پہچان مصیبت میں،
۵- مؤمن کی پہچان آزمائش میں۔
پانچ چیزوں کو پانچ چیزیں ترقی عطا کرتی ہیں:
۱- تواضع علماء کو ترقی عطا کرتا ہے،
۲- مال کمینوں کو بڑھاوا دیتا ہے،
۳- خاموشی لغزش کو دور کرتی ہے،
۴- حیاء اخلاق کو بلندی عطا کرتی ہے،
۵- دل لگی تکلف کو دور کرتی ہے۔
پانچ چیزوں سے پانچ چیزیں حاصل ہوتی ہیں:
۱- استغفار سے رزق،
۲- پست نگاہ سے فراست ایمان،
۳- حیاء سے بھلائی،
۴- نرم گفتگو سے مسئلہ کا حل،
۵- غصہ سے شرمندگی۔
پانچ چیزوں کو پانچ چیزیں دور کردیتی ہیں:
۱- نرم گفتگو غصہ کو
۲- طلب آغوش خداوندی، شیطان کو،
۳- غور و فکر شرمندگی کو،
۴- زبان پر ضبط غلطی کو،
۵- دعا بری تقدیر کو۔
نیک بختی پانچ لوگوں سے قریب رہتی ہے:
۱- فرمانبردار لڑکا،
۲- نیک بیوی،
۳-وفادار دوست،
۴- مؤمن پڑوسی،
۵-فقیہ عالم۔
پانچ چیزیں پانچ چیزوں سے خوش گوار ہوجاتی ہیں:
۱- تندرستی آسودہ حالی سے،
۲- سفر بہترین ہم نشینی سے،
۳- خوبصورتی عمدہ اخلاق سے،
۴- نیند سکون دل سے
۵- رات ذکر خداوندی سے۔
رفتار بقدر ہدف ہو؛
چنانچہ طلب رزق کے لیے فرمان باری تعالیٰ ہے: "فامشوا" (چلو) اور نماز کے لیے "فاسعوا" (جلدی کرو) اور جنت کے لیے "وسارعوا" (لپکو) اور خود اپنے لیے "ففروا إلى الله" (اللہ کی جانب دوڑ لگاؤ)۔
نوٹ: یہ انتہائی خوبصورت اور انوکھا کلام ہے جسے آپ اپنے ہی تک محدود نہ رہنے دیں (دوسروں کو فائدہ پہنچا کر عنداللہ ماجور ہوں)
ایک تبصرہ شائع کریں