وہ: چاند کتنا حسین ہے نا
میں: مجھے نہیں لگتا ۔۔۔
وہ: کچھ اچھا بھی لگتا ہے ؟
میں: ہاں
وہ: کیا ؟
میں: تم
وہ: اوہو جناب واہ آپکے اندر بھی رومینٹک ازم
میں: کبھی کبھی
وہ: اگر ایسا ہی ہے تو جب میں نے چاند کی بات کی تو آپ مجھے چاند کہہ
سکتے تھے
میں: نہیں بلکل نہیں
وہ: کیوں ؟
میں: کیونکہ آپ زمین پر رہنے والی وہ خدا کی عظیم تخلیق ہو جس کی خدمات
میں سورج دن میں روشنی لئے اور چاند رات میں چاندنی لئے پیش پیش
رہتا ہے ۔۔۔
وہ: نہایت بیکار اور فضول بات تھی ویسے یہ
میں: خیر ہے
تین جگہ ہار جانا چاہیے اگر جیتنا چاھتے ہو تو
1:والدین سے
2:اپنے استاد سے
3:اور اس سے جس سے آپ محبّت کرتے ہو
1:والدین سے
2:اپنے استاد سے
3:اور اس سے جس سے آپ محبّت کرتے ہو
ایک تبصرہ شائع کریں