زچہ کو ابھی ابھی ہوش آیا...
بچے کی پیدائش کے بعد ڈیلیوری روم سے نکلے کئی گھنٹے بیت
گئے اور اب ہوش آیا.
بدن میں طاقت بالکل ختم ہو گئی تھی...
کروٹ لینا تو دور کی بات ہلنے میں بھی بے پناہ دقت ہو رہی
تھی.
اس نے بڑی مشکل سے داہنے ہاتھ کو حرکت دی، کچھ ٹٹولا، ہاتھ
میں کچھ محسوس نہیں ہوا.
پھر بائیں ہاتھ کو حرکت دینے کی کوشش کی. کچھ نہیں ہاتھ
لگا. بے چین ہوگئی.
خیال آیا کہیں نیچے لڑھک کے گر تو نہیں گیا! اوہ خدایا...
ہمت جٹا کر بمشکل پلنگ کے نیچے دیکھا.
نیچے بھی نہیں...
من میں گھبراہٹ ہونے لگی. ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمایاں
ہو گئیں...
دُور کھڑی نرس کو اشارے سے بلایا... ہونٹ ہلے پر الفاظ نہیں
نکل سکے...
نرس نے زچہ کی گھبراہٹ محسوس کر لی. اس کی آنکھیں بھی نم
ہوگئی. آخر وہ بھی ماں تھی اور ماں کی تڑپ کو کیسے نہ سمجھ پاتی.
دوڑ کر انکیوبیٹر روم سے نوزائیدہ کو لاکر ماں کے ہاتھ میں
تھماتے ہوئے کہا: "میں سمجھ سکتی ہوں بہن! لو... جی بھر کے دیکھ لو"
زچہ اپنی تمام تر ہمت جٹا کر بولی:
" میں
پوچھ رہی ہوں کہ میرا موبائل فون کہاں ہے
"
ایک تبصرہ شائع کریں