مجھے تم یاد آتے ہو
خیالوں میں
سوالوں میں
محبت کے حوالوں میں
تمہیں آواز دیتا ہوں
تمہیں واپس بلاتا ہوں
جب کوئی نظم کہتا ہوں
اسے عنوان دیتا ہوں
مجھے تم یاد آتے ہو
تمہاری یاد ہونے سے
کوئی سرگوشی کرتا ہے
یہ پلکیں بھیگ جاتی ہیں
دو آنسو ٹوٹ گرتے ہیں
میں پلکوں کو جھکاتا ہوں
بظاہر__مسکراتا ہوں
فقط اتنا ہی کہتا ہوں
مجھے کتنا ستاتے ہو
مجھے کیوں یاد آتے ہو
مجھے کیوں یاد آتے ہو
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک تبصرہ شائع کریں