کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ زندگی میں ہر شخص کو وہی کام کرنا چاہیے جس کے لیے وہ بنا ہو کافی عرصہ اس کی یہ بات میرے دماغ میں سورج کے گرد زمین کی گردش کی طرح گردش کرتی رہی مگر کوئی نتیجہ نہ نکل پایا۔ پورے دن کی تھکاوٹ کے بعد جب رات کو سونے کے لیے بستر پر گیا تو سونے سے پہلے کافی دیر دوستوں سے سوشل میڈیا پر گپ شپ لگاتا رہا جیسے ہی سونے کا ارادہ کیا تو دماغ کچھ سوچ رہا تھا پتہ نہیں کیا لیکن تھا کچھ خاص۔ ماضی کی وہ یاد جس نے کافی عرصہ پہلے اس غریب کے دروازے پر دستک دینی چھوڑ دی تھی ایک بار پھر دستک دے کر ہلچل مچا گئی۔ وہ سارے منظر ایک بار پھر آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگے ایسے لگ رہا تھا جیسے آج توماضی کی یہ یادیں جان لے کر چھوڑیں گیں۔ آج سے تقریباً چار سال پہلے کی بات ہے جب میں کالج سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کر چکا تھا اور چھٹیاں چل رہی تھیں۔ گھر میں اکیلا ہی تھا دروازے پر بیل بجی، نا چاہتے ہوئے بھی اٹھنا پڑا۔
دروازے کے پاس جا کر پوچھا کون ہے؟
تو باہر سے آواز آئی ڈاکیا...!
اس آواز کا کانوں میں جانا ہی تھا کہ دماغ میں کئی سوالات پیدا ہونے لگے۔ اپنے سوالوں کے جوابات کے لیے جلدی سے دروازہ کھولا۔ دروازہ کھلتے ہی اس نے سلام کیا۔ سلام کا جواب دے کر آنے کی وجہ دریافت کی تو اس نے ایک لفافہ ہاتھ میں تھما دیا۔ لفافے کو ہاتھ میں تھما کر بولا ادھر سائن کر دیں۔ میں نے جیسے ہی سائن کیے اگلے ہی لمحے اس نے اپنی بائیک کو کک ماری اور چند ہی سیکنڈز میں آنکھوں سے اوجل ہوگیا۔میں نے دروازہ بند کر دیا اور آکر کمرے میں بیٹھ کر بڑی
تجسس کے ساتھ لفافہ کھولا۔ لفافے میں ایک شادی کا کارڈ تھا جس پر پوری فیملی کے ساتھ شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
باقی سب کے گھر آنے سے پہلے ہی میں شادی میں شرکت کا پروگرام سیٹ کر چکا تھا اب صرف منظوری باقی تھی۔ یہ مسئلہ بھی اس وقت سیٹ ہوگیا جب کوئی اور شادی میں جانے کے لیے رضا مند ہی نہیں ہو رہا تھا۔
میری طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جا رہا تھا کہ چلو اگر کوئی بھی نہیں جا رہا تھا تو اس کو ہی بھیج دیتے ہیں لیکن مجال ہے جو کسی ایک نے بھی یہ بات خود سے کہی ہو۔ خیر وہ کہتے ہیں نہ جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔ میں نے آہستہ سے خالہ کے کان میں یہ بات پہنچائی کہ اگر کوئی بھی آپ کے ساتھ نہیں جا رہا تو میں چلا جاتا ہوں ویسے بھی چھٹیاں تو چل ہی رہی ہیں اور کام کاج میں کرتا نہیں جو کسی کو میرے جانے سے اعتراض ہوگا۔ پھینکا تو تیر ہوا میں ہی تھا لیکن وہ جا نشانے پر لگا۔ خالہ کو میری بات میں کچھ بات نظر آئی۔ لو پھر کیا گھر میں اعلان ہوگیا کہ زبیر ہی میرے ساتھ جائے گا۔۔
اب سب سوچ رہے ہوں گے بات تو میری چل رہی ہے اور یہ زبیر کہاں سے ٹپک پڑا؟
زبیر میرا نام ہے۔ باقی تعارف رہنے دیتے ہیں۔
تو بات چل رہی تھی میرے جانے کی۔ اس طرح سب آسانی سے رضا مند ہوگئے اور میرے پلان کو تکمیل مل گئی۔ دو روز پہلے ہی پیکنگ شروع کر دی۔ بہت خوش تھا پہلی دفعہ شیخوپورہ جو جانے کا موقع ملا تھا۔ مجھے نئی نئی جگہ گھومنے کا بڑا شوق ہے اس لیے مجھے زیادہ خوشی ہورہی تھی اس سے پہلے کبھی شیخوپورہ گیا بھی نہیں نہ۔ تو جانے کا وقت آگیا۔ سب سامان پہلے ہی پیک کر چکے تھے اس لیے جاتے وقت کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہم گھر سے تین لوگ شادی اٹینڈ کرنے جا رہے تھے۔ میں، امی اور خالہ۔
قسمت اچھی تھی جو اڈے میں پہنچتے ہی بس مل گئی۔ لگ بھگ 3، 4 گھنٹوں میں ہم شیخوپورہ پہنچ گئے۔ خالہ پہلے بھی کئی دفعہ وہاں جا چکی تھی اس لیے ان کو رستے کا پتہ تھا۔ میں اور امی پہلی دفعہ جا رہے تھے۔ شیخوپورہ پہنچ کر ٹیکسی کروائی اور اپنی منزل کی طرف ہم چل دیئے۔رحیم کے بارے میں بتاتا چلوں۔ رحیم میرے ماموں کا بیٹا ہے اس حساب سے وہ میرا ماموں زاد کزن ہوا۔ میری اس سے کافی بنتی ہے۔ وہ دو دن پہلے ہی وہاں پہنچ گیا تھا۔ ان کے گاؤں کے رستے میں امرود اور مالٹوں کے باغات لگے ہوئے تھے۔ پہلی دفعہ اس طرح کا نظارہ دیکھ کر دل کو بڑی خوشی مل رہی تھی۔ آدھے گھنٹے میں گاؤں پہنچ گئے۔ گاؤں کا نام سن کر شاید آپ لوگ ہنس پڑیں گاؤں کا نام تھا کُجی۔ ہاں کُجی۔ یہی نام تھا۔
گاؤں پہنچے تو سب نے دلی مسرت کا اظہار کیا جس میں کوئی دکھاوا نہ تھا۔ شادی ابھی کچھ دن بعد تھی ۔ گرمی کے دن تھے۔ میں اور میرا کزن ہم روز صبح صبح قریب ہی ایک گاؤں تھا نائیجر وہاں سے دودھ لینے جاتے تھے اور آتے جاتے باغ میں سے امرود تو ضرور ہی توڑتے تھے۔ گاؤں بڑا چھوٹا سا تھا اور سب لوگ ہی رحیم کے ماموں کو جانتے تھے اس لیے جس بھی باغ میں ہم چلے جاتے کوئی نہیں روکتا تھا۔ ہمارا یہ روز کا معمول تھا۔ دودھ لانے کے بعد ہم ناشتہ کرتے اور گلی میں گُلی ڈنڈا کھیلنا شروع کر دیتے۔ زیادہ تر ہم دونوں ہی گُلی ڈنڈا کھیلتے تھے یا پھر کبھی کبھار کرکٹ کھیلنے کے لیے تالاب کے پاس ایک چھوٹا سا گراؤنڈ تھا وہاں چلے جاتے تھے۔ بس اسی طرح ٹائم پاس ہو جاتا تھا۔ رحیم کے بارے میں بتاتا چلوں اس کی وہاں ایک گرل فرینڈ بھی تھی وہ پہلے بھی آتا جاتا رہتا تھا اس لیے اس نے وہ کافی پہلے کی بنا رکھی تھی لیکن مجھے یہ بات وہاں جانے کے بعد ہی اس نے بتائی تھی۔ اس کا اب نام تو نہیں یاد خیر نام جو بھی ہو وہ روز اس کے لیے کچھ کھانے کو لے آتی تھی اور ساتھ میرا بھی جگاڑ لگ جاتا تھا ہم دونوں زیادہ تر اکھٹے ہی رہتے تھے اس لیے مجھے مفت میں ہی کھانے کو مل جاتا تھا۔ جب کبھی ہم ایک ساتھ نہیں ہوتے تھے تو وہ اکثر مجھ سے رحیم کا پتہ پوچھنے آجاتی تھی۔ مجھے ویسے لڑکیوں سے شرم بہت آتی تھی اسی لیے میں لڑکیوں سے دور ہی رہتا تھا لیکن اس لڑکی کا مجھے پتہ تھا کہ وہ رحیم کو پسند کرتی ہے اس لیے ٹینشن نہیں ہوتی تھی کسی بات کا جواب دینے میں۔ ایک دن میں اور کزن باہر گِلی ڈنڈا کھیل رہے تھے کہ کسی کام کے سلسلہ میں رحیم تھوڑی دیر کے لیے گھر چلا گیا۔ گھر بالکل پاس ہی تھا۔ اس کے جاتے ہی میں دیوار کی اوڑھ میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا۔ اسے گئے ہوئے ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ ایک خوبصورت سی لڑکی بلیک کلر کا ڈریس پہنے ہوئے مجھے آج بھی یاد ہے اس کے بلیک کلر کے سوٹ پہ چمکدار موتی لگے ہوئے تھے کافی اچھا لگ رہا تھا اسے پہنے ہوئے۔ اچانک میرے پاس آ کر مجھے آواز دی ہیلو۔۔! ہیلو کی میٹھی سی آواز کانوں میں جاتے ہی میں اس کی طرف متوجہ ہوا سب سے پہلے میری نظر اس کے سوٹ پر پڑی جس پر سورج کی روشنی پڑنے کی وجہ سے چمک رہا تھا پھر میری نظر اس کے چہرے پر پڑی۔ وائٹ کلر تھا اس کا، سر پہ ڈوپٹہ تھا اس کے، جس میں سے تھوڑے تھوڑے گھنگھرے بال نظر آ رہے تھے۔
میں نے جواب دیا “جی” میرا جواب سن کر اس نے اگلا سوال کیا تمہارا نام کیا ہے؟
میرا دل بڑی زور زور سے دھڑک رہا تھا ایسے جیسے ابھی کے ابھی باہر نکل پڑے گا۔ کسی لڑکی سے اس طرح اکیلے میں کبھی کوئی بات جو نہیں ہوئی تھی فرسٹ ایکسپیرینس ہو رہا تھا اور اوپر سے میں شرمیلا بہت تھا۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے ری ایکٹ کروں کیا جواب دوں۔ اسی سیچوایشن میں وہاں سے میں اٹھا اور بنا کوئی جواب دیئے چلا آیا۔ کمرے میں پہنچا تو جان میں جان آئی، دل ابھی بھی دھڑک رہا تھا۔ میں نے یہ بات رحیم کو بتائی تو وہ ہنسنے لگا کہتا ہے نام تو بتا دیتا اسے پتا نہیں کیا سوچے گی تیرے بارے میں، میں کیا جواب دیتا میری تو سانس ہی اٹک رہی تھی۔
کہتا ہے چل کوئی بات نہیں اب تم کھانا کھا لو میں آتا ہوں۔
اس کے بعد وہ باہر چلا گیا اور میں وہی بیٹھ گیا۔ بس اتنی سی تھی ہماری پہلی ملاقات۔
اس کے بعد
(to be continued...)
ایک تبصرہ شائع کریں