سنو اندھو سنو بہرو
بغاوت فرض ہوتی ہے
اپاہج ،مردہ دل لوگو
بغاوت فرض ہوتی ہےجہاں حاکم نہ ہو اللہ
جہاں قانون ناں قرآں
وہاں حکمِ خدا ہے یہ
بغاوت فرض ہوتی ہے
وہاں حکمِ خدا ہے یہ
بغاوت فرض ہوتی ہے
جہاں بھٹکے اجالے ہوں
جہاں اندھے سویرے ہوں
بغاوت کے برابر ہے
تو اِن اندھوں کی بستی میں
بغاوت فرض ہوتی ہے
جہاں سانسیں خریدیں ہم
تو اس مسکین بستی میں
بغاوت فرض ہوتی ہے
جہاں حقدار کہتا ہے
یوں جب برپا قیامت ہو
بغاوت فرض ہوتی ہے
یہ سر گلیوں میں کٹوانا
جہاں پہ رِیت بن جائے
غریبی کا مداوا جب
فقط یہ موت رہ جائے
جہاں بھیگے دوپٹہ جب
تو ماں کا خون سے بھیگے
جہاں یہ عمر بے چاری
سدا ماتم میں بس گزرے
وہاں مرنے سے پہلے تو
بغاوت فرض ہوتی ہے
جہاں وجہِ حکومت کی
جہاں انصاف کرسی ہو
تو ایسی بے کسی میں ہی
سنو اندھو سنو بہرو
جہاں سانسیں خریدیں ہم
کبھی بک کر کبھی مر کر
جہاں ہم پیٹ بھرنے پر
منائیں جشن گھر گھر پر
جہاں ہم پیٹ بھرنے پر
منائیں جشن گھر گھر پر
تو اس مسکین بستی میں
بغاوت فرض ہوتی ہے
جہاں حقدار کہتا ہے
وہاں اوپر میں پوچھوں گا
یہاں پر تو خدا ہے تو
خدا اپنے سے پوچھوں گا
یہاں پر تو خدا ہے تو
خدا اپنے سے پوچھوں گا
یوں جب برپا قیامت ہو
بغاوت فرض ہوتی ہے
یہ سر گلیوں میں کٹوانا
جہاں پہ رِیت بن جائے
غریبی کا مداوا جب
فقط یہ موت رہ جائے
جہاں بھیگے دوپٹہ جب
تو ماں کا خون سے بھیگے
جہاں یہ عمر بے چاری
سدا ماتم میں بس گزرے
وہاں مرنے سے پہلے تو
بغاوت فرض ہوتی ہے
جہاں وجہِ حکومت کی
رگوں میں دوڑتا خوں ہو
جہاں عقل و خرد ساری
فقط دولت کی مرہوں ہو
جہاں انصاف کرسی ہو
جہاں قانون کرسی ہو
جہاں عالم بھی کرسی ہو
جہاں مذہب بھی کرسی ہو
تو ایسی بے کسی میں ہی
بغاوت فرض ہوتی ہے
سنو اندھو سنو بہرو
اپاہج مردہ دل لوگو
سنو حکمِ خدا ہے یہ
بغاوت فرض ہوتی ہے
ایک تبصرہ شائع کریں