اور بدقسمتی سے بہت سے مرد یہ جنگ ہار رہے ہیں
بغیر اس کے کہ انہیں اس کا احساس ہو
جب فحاشی جیتتی ہے
تو مرد اندر سے ہار جاتا ہے
آج کے دور میں فحش مواد ایک خطرناک حقیقت بن چکا ہے
یہ ایک ایسا جال ہے جو مرد کو بے خبری میں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے
یہ مفت میں دستیاب ہوتا ہے
اور یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی نارمل اور صحت مند چیز ہو
جبکہ حقیقت میں یہ غیر فطری اور نقصان دہ ہے
1 خود پر کنٹرول اور مردانگی کا زوال
جس دور میں اصل مردانگی کم ہوتی جا رہی ہے
اس دور میں مرد کو محافظ اور رہنما ہونا چاہیے
لیکن فحاشی مرد کی توجہ اصل ذمہ داریوں سے ہٹا دیتی ہے
یہ عورتوں بلکہ بعض اوقات بچوں کی تذلیل اور استحصال پر مبنی ہوتی ہے
جس سے مرد کا دماغ متاثر ہوتا ہے اور وہ خود غرض بننے لگتا ہے
جو مرد اپنی خواہشات کا غلام ہو
وہ لیڈر نہیں ہو سکتا
اپنے نفس پر قابو ہی اصل مردانگی ہے
2 ذہنی غلامی اور قابو میں آنا
فحش مواد مرد کو ایک مصنوعی خوشی کا احساس دیتا ہے
ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ ٹھیک ہے
مگر درحقیقت یہ اسے اندر سے کمزور کر دیتا ہے
وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی بجائے بس تماشائی بن جاتا ہے
اور یہی کمزوری معاشرے میں منفی طاقتوں کو اوپر لاتی ہے
3 تعلقات اور محبت پر اثر
فحاشی دیکھنے والا مرد حقیقی محبت سے محروم ہو جاتا ہے
اس کی خواہشیں غیر فطری ہو جاتی ہیں
اور وہ عورت اور ازدواجی رشتے کو صرف ایک جسمانی تعلق سمجھنے لگتا ہے
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نہ کسی رشتے میں سچائی لا پاتا ہے
نہ گھر بسا پاتا ہے نہ دل سے محبت کر پاتا ہے
4 دماغ پر تباہ کن اثرات
فحش مواد دماغ میں کیمیکل کی خرابی پیدا کرتا ہے
جس سے انسان کے احساسات غیر متوازن ہو جاتے ہیں
پھر انسان بے وجہ بے چینی ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے
اور اسے لگتا ہے کہ وہ کبھی نہیں بدل سکتا
یوں وہ بار بار اسی دلدل میں واپس چلا جاتا ہے
5 ایک تماشائی بن جانا
فحاشی مرد کو ایک بے عمل انسان بنا دیتی ہے
وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی بجائے صرف دوسروں کو دیکھنے لگتا ہے
نہ خود کچھ حاصل کرتا ہے نہ کچھ بننے کی کوشش
یوں وقت کے ساتھ وہ اپنی زندگی کا تماشائی بن جاتا ہے
اس بے بسی کی کیفیت مرد کو خود سے نفرت کی طرف لے جاتی ہے
اور جب وہ اپنی حالت بدلنے کے لیے کچھ نہیں کرتا
تو زندگی ایک حقیقت بن جاتی ہے جس میں وہ صرف ہارتا ہے
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ فحاشی ان کی زندگی کو متاثر نہیں کرتی
مگر یہ صرف ایک دھوکہ ہے
جو لوگ اس کی تباہ کاریوں کو پہچان چکے ہیں
وہی آج بھی بچی ہوئی عزت نفس اور طاقت کے قلعوں میں کھڑے ہیں
اگر آپ چاہیں تو ایک نیکی میں شریک ہوں
صرف ایک بار اس پیغام کو آگے بڑھائیں
اور کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بنیں
کیونکہ جو نیکی کی رہنمائی کرتا ہے
اسے ویسا ہی اجر ملتا ہے جیسے کرنے والے کو
ایک تبصرہ شائع کریں