گفتگو کا ہنر
آنکھوں کی زبان سیکھ کر دِلوں پر راج کریں.!
انسان کی گفتگو صرف الفاظ کا کھیل نہیں،
بلکہ جسمانی حرکات، چہرے کے تاثرات اور سب سے بڑھ کر آنکھوں کی زبان بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کے کامیاب لوگ
اپنی بات کو پراثر بنانے کے لیے آنکھوں کا صحیح استعمال کرنا جانتے ہیں۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی بات توجہ سے سنیں، آپ کی شخصیت کا احترام کریں اور آپ کی گفتگو میں ایک خاص کشش پیدا ہو، تو یہ مضمون آپ کے لیے ہے۔
آنکھوں میں دیکھنے کا صحیح وقت اور انداز.!
آپ نے دیکھا ہوگا
کہ کچھ لوگ جب بات کرتے ہیں
تو ان کی باتوں میں وزن محسوس ہوتا ہے۔
ان کی شخصیت میں ایک اعتماد جھلکتا ہے، اور سننے والا ان کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی گفتگو کے دوران صحیح وقت پر آنکھوں میں دیکھنے کا فن جانتے ہیں۔
گفتگو کے دوران مسلسل آنکھوں میں دیکھنا
بعض اوقات سامع کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ دباؤ ڈال رہے ہیں یا سوال کر رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران ہلکی پھلکی نظر کا رابطہ رکھیں تاکہ سننے والا محسوس کرے کہ آپ اس سے جُڑے ہوئے ہیں۔ لیکن مسلسل گھورنے سے گریز کریں۔
جب آپ جملہ مکمل کریں،
تب آنکھوں میں دیکھیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے
جب آپ کی بات کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے، سننے والے کو یقین آتا ہے کہ آپ پُراعتماد اور مخلص ہیں۔
اپنے مخاطب کو نرمی اور مسکراہٹ کے ساتھ دیکھیں تاکہ آپ کے الفاظ میں شدت کے بجائے اپنائیت محسوس ہو۔
یہ ہنر سیکھنے کے لیے عملی مشقیں..!
1. آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر کسی خیالی سامع سے بات کریں اور دیکھیں کہ آپ کی آنکھوں کی حرکت کیسی لگ رہی ہے۔
2. روزمرہ کی گفتگو میں کسی سے بات کرتے ہوئے اس اصول کو آزمانے کی کوشش کریں۔
3. کسی تقریر یا پریزنٹیشن کے دوران اپنے سامعین کی آنکھوں میں جملے کے اختتام پر دیکھنے کی عادت ڈالیں۔
4. اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے نوٹ کریں کہ کب اور کیسے نظر کا رابطہ زیادہ مؤثر لگتا ہے۔
دنیا کے کامیاب لوگ یہ اصول کیسے اپناتے ہیں؟
یہ کوئی عام ہنر نہیں،
بلکہ نفسیات اور باڈی لینگویج کی دنیا میں اس پر باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے۔ مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر آلبرٹ مہربیان (Albert Mehrabian) نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ گفتگو میں الفاظ سے زیادہ اثر باڈی لینگویج اور آواز کے اتار چڑھاؤ کا ہوتا ہے۔
ایمی کَڈی (Amy Cuddy)،
جو کہ ہارورڈ بزنس اسکول میں پروفیسر ہیں،
کہتی ہیں کہ خود اعتمادی کے اظہار کے لیے آنکھوں کا صحیح استعمال ضروری ہے۔
دنیا کے بڑے لیڈرز
اپنی تقریروں میں جملے کے اختتام پر سامعین کی آنکھوں میں دیکھنے کی مہارت رکھتے تھے، جس سے ان کی بات زیادہ پراثر لگتی تھی۔
یہ ہنر سیکھنا کیوں ضروری ہے؟
اس سے آپ کی گفتگو میں اعتماد پیدا ہوگا۔
لوگ آپ کی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے سنیں گے۔
اگر آپ کسی انٹرویو میں ہیں، تو یہ ہنر آپ کو زیادہ پیشہ ور اور قابل شخصیت کے طور پر پیش کرے گا۔
اگر آپ استاد، مقرر، خطیب یا لیڈر ہیں، تو اس سے آپ کی بات کا اثر کئی گنا بڑھ جائے گا۔
گفتگو کا حسن صرف الفاظ سے نہیں،
بلکہ آنکھوں کی زبان سے بھی جُڑا ہے۔ اگر آپ یہ سادہ سا اصول سیکھ لیں کہ بولتے وقت نرم رویہ اختیار کریں، اور جملہ مکمل ہونے پر آنکھوں میں دیکھیں، تو آپ کی شخصیت میں ایک خاص کشش پیدا ہو جائے گی۔
یہ ہنر سیکھنے میں کچھ وقت لگے گا،
مگر اگر آپ مستقل مزاجی اور اخلاص سے اس کی مشق کریں، تو ایک دن آپ بھی ان کامیاب لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی باتوں کو دنیا سنتی ہے اور پسند کرتی ہے۔
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے
منقول
ایک تبصرہ شائع کریں