اس بلاگ کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں معلومات فراہم کرنا جس سے وہ استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرسکیں۔

Zara Ik Bar Soch Lain


 ذرا اک بار سوچ لیں

باپ چار بچوں کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوا، ایک سیٹ پرخاموشی سے بیٹھ گیااور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
بچے؟بچے نہیں آفت کے پرکالے تھے۔انہوں نے ٹرین چلتے ہی آسمان سر پر اٹھا لیاکوئی اوپر کی سیٹوں پر چڑھ رہا ہے ،تو کسی نے مسافروں کا سامان چھیڑنا شروع کر دیاکوئی چچا میاں کی ٹوپی اتار کر بھاگ رہا ہے تو کوئی زور زور سے چیخ کر آسمان سر پر اٹھا رہا ہے۔مسافر سخت غصے میں ہیں کہ کیسا باپ ہے ؟نہ انہیں منع کرتا ہے نہ کچھ کہتا ہے۔
کوئی اسے بے حس سمجھ رہا ہے تو کسی کے خیال میں وہ نہایت نکما ہےبلآخر جب برداشت کی حد ہو گئی تو ایک صاحب غصے سے اٹھ کر باپ کے پاس پہنچے اور ڈھاڑ کر بولے"آپ کے بچے ہیں یا مصیبت ؟
آخر آپ ان کو ڈانٹتے کیوں نہیں؟
باپ نے ان صاحب کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں آنسووں سےلبریز تھیں اور بولا'آج صبح ان کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے میں ان کو وہیں لے کر جا رہا ہوں۔ مجھ میں ہمت نہیں کہ ان کو کچھ کہہ سکوں۔ آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں۔۔۔
سارے مسافرایک دم سناٹے میں آ گئے۔۔۔ایک ہی لمحے میں منظر بالکل بدل چکا تھاوہ شرارتی بچے سب کو پیارے لگنے لگے تھے۔سب آبدیدہ تھےسب انہیں پیار کر رہے تھے،اپنے ساتھ چمٹا رہے تھے۔
زندگی میں ضروری نہیں کہ حقائق وہ ہی ہوں جو بس ہمیں نظرآرہے ہوں بلکہ وہ بھی ہوسکتے ہیں جو ہمیں نظر نہ آ رہے ہو ں۔
یاد رکھیئےرائے بنانے میں وقت لگائیں،بد گمانی سے پہلے خوش گمانی کو کچھ وقت دیں،فیصلے سے پہلے ذرا ایک بار اور سوچ لیں

بس ایک بار اور۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک تبصرہ شائع کریں

[blogger]

MKRdezign

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

Flashworks کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget